BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی مسئلہ نہیں، بالکل فٹ ہوں ‘
News image
’میری ترجیح یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے لیے کچھ اچھا کرسکوں‘
اگر دنیا میں تیز بالروں نے اپنی کوئی یونین بنانی ہو تو ایسی یونین کو شیعب اختر سے اچھا ترجمان مل ہی نہیں سکتا کیونکہ شاید شیعب وہ باتیں کہہ جاتے ہیں جو شاید دوسرے بالر نہیں کہتے۔

یوں بھی تیز بالر کرکٹ کے کھلاڑیوں میں الگ سی چیز ہوتے ہیں، کبھی اپنے جسم کے خدو خال سے اور طاقت سے رعب جماتے ہیں تو کبھی خوفزدہ کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھی تو خود بھی کمزور سے دکھائی دیتے ہیں۔

فاسٹ بالروں کی بات کرتے ہوئے دنیا کے بڑے فاسٹ بالر شیعب اختر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فاسٹ بالر کو زیادہ آرام اور زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

’جتنی کرکٹ آج کل کھیلی جاتی ہے اس کے بعد آپ کو کسی فاسٹ بالر سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ ہر موقع پر فٹ رہے۔ آئی سی سی ٹورنامنٹ کے بعد پاکستان کی ٹیم ایک ماہ میں دو ٹیسٹ اور سات ایک روزہ میچ کھیل رہی ہے۔ اور اگر مجھ سے یہ کہا جائے کہ ہر میچ میں کھیلوں تو میرا جسم کتنی مشقت برداشت کر سکتا ہے۔‘

اور آسٹریلیا ک بریٹ لی کو شیعب کی اس بات سے اتفاق ہے اور ان کا کہنا ہے ک عالمی سطح پر کرکٹ کھیلنے والوں کو سال میں چار ماہ کی چھٹی ملنی چاہیئے تاکہ وہ آرام کر سکیں۔

شیعب اختر کی آرام کی بات کا شاید ایک پس منظر وہ انکوائری ہو جو اپریل میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ جاننے کے لیے کروائی تھی کہ آیا شیعب اختر کی پسلیوں پر واقعی چوٹ لگی تھی یا نہیں۔

یہ انکوائری اس لیے کرانی پڑی کہ کچھ ’اندر کے‘ پاکستانیوں نے یہ الزام لگائے تھے کہ شیعب اختر جھوٹ موٹ اپنے آپ کو زخمی کہہ رہے ہیں اور حقیقت میں وہ بالکل تندرست ہیں۔ یہ خیال پاکستان کے کپتان انضام الحق کا بھی تھا۔‘

شیعب اور باب ولمر
شیعب کو باب ولمر کے ساتھ کام کرنے میں مزا آتا ہے

تاہم چند سابقہ کھلاڑیوں نے جن میں عمران خان اور وسیم اکرم بھی شامل ہیں اس الزام کی مذمت کی تھی۔ انکوائری کے بعد یہ حقیقت واشگاف ہوگئی کہ وہ واقعی زخمی تھے لیکن اس واقعہ کے بعد سے ان میں تلخی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس موضوع پر بات کرنا پسند نہیں۔

’میرے خیال میں کچھ چیزیں ہو جاتی ہیں لیکن مجھے لگا کہ میرے اپنے لوگوں نے میرے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ تھےکچھ ایسے لوگ جو مجھے سمجھ ہی نہیں پائے۔ اگر میں کہوں کہ میں زخمی ہوں تو سیدھی سی بات ہے کہ اگر میں زخمی ہوں تو ایسے کہہ رہا ہوں نا۔ کوئی دوسرا میرے زخمی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کیسے کہہ سکتا ہے۔‘

شیعب کہتے ہیں کہ میڈیکل انکوائری ’ہمارے لیے اچھی نہیں تھی اور اس سے ہمارے ملک کے نام پر بھی برا اثر پڑا۔ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں تھا اور ایسی انکوائری کرانا دانشمندی کے خلاف تھاگ‘

شیعب کے بقول وہ ہمیشہ پاکستان کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔’کھیلتے وقت میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں اور میں میچ جیت کر دیتا ہوں۔ میں نے اپنے ملک کو کئی میچ جیت کر دیئے ہیں لہذا جو کچھ ہوا (میڈیکل انکوائری) اس سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔‘

چیمپیئنز ٹرافی میں بھی شیعب اختر کی صحت سوال بنی ہوئی ہے۔ کینیا کے خلاف جب شیعب نے پانچ اوور کرائے جن میں کوئی خاص بات نظر نہ آئی تو انضمام الحق کو شیعب کی صحت سے متعلق سوالوں سے بچنا پڑا۔ انہیں کہنا پڑا کہ شیعب پوری طرح فٹ ہیں۔

خود شیعب کا کہنا تھا کہ ایجبیسٹن میں نمی کی وجہ سے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ وہ پوری رفتار سے بالنگ کرائیں یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ فٹ ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

شیعب کہتے ہیں کہ نئے کوچ باب ولمر اور بات کو سمجھنے والے بورڈ کے باعث وہ ماضی کی تلخی کو بھول چکے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد