ویسٹ انڈیز بمقابلہ جنوبی افریقہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برائن لارا اور گریم اسمتھ کی ٹیمیں ہفتے کو اوول کے میدان ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کر رہی ہیں۔ اسی میچ کی فاتح ٹیم اتوار کو پاکستان اور بھارت کے میچ کی فاتح ٹیم سے آئندہ بدھ کو سیمی فائنل کھیلے گی۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ روایتی حریف نہیں لیکن ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کشمکش بہت دلچسپ ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ٹورنامنٹ میں جو آئی سی سی ناک آؤٹ کے نام سے شروع ہوا تھا جنوبی افریقہ نے جیک کیلس کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی سے ویسٹ انڈیز کو چار وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس شکست نے برائن لارا الیون کو اپنے ہی ملک میں کھیلی گئی سیریز کے تمام پانچوں ٹیسٹ ہرا کر بے بسی کی تصویر بنادیا تھا۔ لیکن جنوبی افریقہ کو وہ لمحہ بھی اچھی طرح یاد ہے جب اپنے ہی ملک میں اسے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس میچ کو برائن لارا نے سنچری سے یادگار بنایا تھا۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ دونوں ٹیموں کی قوت ان کی بیٹنگ میں ہے لیکن مستقل مزاجی کی کمی ہونے کے سبب اہم میچوں میں انہیں خفت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جنوبی افریقی ٹیم کے لئے یہ میچ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا سے مسلسل دس میچ ہار کر انگلینڈ آئی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف اس کی جیت کو بڑا کارنامہ نہیں کہا جاسکتا۔ کپتان گریم اسمتھ اپنے اوپنر ہرشل گبز کے فارم میں نہ ہونے سے سخت پریشان ہیں جو23 میچوں میں صرف ایک نصف سنچری سکور کرسکے ہیں۔ پانچ سال قبل ورلڈ کپ کے ہیرو اور ولن لانس کلوسنر بھی کوئی رنگ نہیں دکھا پارہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح جیک کیلس ہی جنوبی افریقہ کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے پاس گیل، ہائنڈز چندرپال، سروان اور لارا جیسے بلے باز ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ٹیسٹ کے مقابلے میں اسوقت ون ڈے میں بہتر کارکردگی دکھارہی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||