بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز آمنے سامنے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی چیمپئنزٹرافی میں بدھ پندرہ ستمبر کو پاکستان اور کینیا کےدرمیان بارش کی وجہ سے ملتوی ہوجانے والا میچ دوبارہ کھیلا جائے گا جبکہ بنگلہ دیش کا مقابلہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم سے ہوگا۔ پاکستان اور کینیا کے درمیان میچ مقررہ وقت سے تیس منٹ قبل ایک دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کل ہوا تھا کیونکہ پیر اور منگل کی رات ہونے والی بارش کی وجہ سے بالروں کے رن اپ پر پھسلن تھی اور ایمپائروں کا خیال تھا کہ میچ ممکن نہیں ہے۔ ادھر بدھ کو بنگلہ دیش کی ٹیم روزباؤل میں ویسٹ انڈیز کے سامنے ہوگی اور عام خیال یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ برائن لارا اور ان کے ساتھی بنگلہ دیش کو ہرا دیں گے۔ تاہم ویسٹ انڈیز کے لئے انگلش سیزن کسی بھیانک خواب سے کم نہیں رہا۔ اسے انگلینڈ کے ہاتھوں تمام چاروں ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ون ڈے میچوں میں وہ بہتر کھیلی۔ اس نے سہ فریقی ون ڈے سیریز کا فائنل نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا جبکہ اس سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم بھی شامل تھی۔ مبصرین حیران ہیں کہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی ٹیم باصلاحیت بیسٹمینوں پر مشتمل ہونے کے باوجود حریف بولرز کو اپنے حصار میں کیوں نہیں لے لیتی؟ کرس گیل، شیونرائن چندرپال، رام نریش سروان اور برائن لارا کسی بھی ٹیم کے لئے آئیڈیل بیٹنگ لائن سمجھی جاتی ہے لیکن مستقل مزاجی کے فقدان کے سبب وہ اپنی دھاک بٹھانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ کرس گیل بڑی اننگز کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں اور جب تک کریز پر ہوں بولرز کی پریشانی ان کے چہروں سے عیاں رہتی ہے لیکن کبھی وہ اپنی وکٹ خود گنواکر پویلین کی راہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی بولنگ ہے حالیہ دنوں میں کئی بولرز آزمائے جاچکے ہیں لیکن ویسٹ انڈیز کو تا حال کوئی اتنا اچھا بولر نہیں مل سکا جو ماضی میں اس ٹیم کا ایک مضبوط پہلو ہوا کرتا تھا۔ ماضی کے عظیم بیٹسمین ویوین رچرڈز اور موجودہ کپتان برائن لارا کے درمیان اختلافات اور بیان بازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہےجس کے اثرات ٹیم پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ادھر بنگلہ دیشی ٹیم ایک جیسی غلطیاں کرنے میں پختہ ہوگئی ہے جنہیں دور کرنے کی کوشش میں واٹمور کے پست حوصلے ان کے چہرے سے ظاہر ہونے لگے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||