عامر خان کی نظر طلائی تمغے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سترہ سالہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی نظر ایتھنز اولمپک میں کانسی کا تمغہ یقینی بنانے کے بعد اب طلائی تمغے پر ہے۔ عامر خان اولمپک میں برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے واحد باکسر ہیں۔ عامر خان منگل کے روز کوارٹر فائنل میں جنوبی کوریا کے بیک جونگ سب کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں جہاں اب جمعہ کو ان کا مقابلہ قازقستان کے سیرک یلیوو سے ہوگا۔ کوارٹر فائنل کے دوران جو پہلے ہی راؤنڈ میں ختم ہو گیا تھا ہال میں برطانوی شائقین کے ساتھ پاکستانی بھی موجود تھے جو پاکستان کا جھنڈا لہراتے رہے۔ کوارٹر فائنل کے بعد جنوبی کوریا کے باکسر کے کوچ نے عامر خان کو نا قابل شکست قرار دیا اور ان کو اولمپک کی دریافت قرار دیا۔ بولٹن کے رہنے والے عامر خان نے جون میں جنوبی کوریا میں ہونے والے جونیئر عالمی مقابلوں میں لائٹ ویٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ایتھنز اولمپک سے قبل وہ یورپی چیمپئن شپ اور پری اولمپک ٹورنامنٹ بھی جیت چکے ہیں۔ اپنی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ مختلف برطانوی ٹیموں میں بہت کم ایشیائی نژاد کھلاڑی شامل ہوتے ہیں اور ان کا اولمپک میڈل جیتنا اہم کامیابی ہے۔ عامر خان نے کہا کہ اگر وہ اس بار طلائی تمغہ نہ جیت سکے تو وہ چار سال بعد بیجنگ میں کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی وہ صرف سترہ سال کے ہیں اور اگلی اولمپک میں ان کو زیادہ تجربہ حاصل ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا خاندان، ان کے کوچ اور برطانیہ ان پر فخر کر سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||