جدید ٹیکنالوجی کےکھیلوں پر اثرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ عرصے کے دوران کھیلوں سے متعلق سائنس میں ترقی کے سبب، ایتھلیٹ اولمپک مقابلوں کی تیاری میں ایسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جو ماضی کے ایتھلیٹوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ایتھلیٹ، پول والٹ کے مقابلوں میں بار پھلانگنے کے لیے لکڑی کے پول استعمال کرتے تھے۔ لیکن محض دس برس کے عرصے میں ہی اُن کھلاڑیوں نے بانس استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ اور انیس سو ساٹھ کے عشرے میں فائبر گلاس اور پھر کاربن فائبر کی ایجادات کے باعث پول والٹ کے مقابلوں میں نئے سے نئے ریکارڈ بننے لگے۔ کھیلوں کی سائنس میں ترقی کے باعث اب ان معذور کھلاڑیوں کو بھی مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے جنہیں ماضی میں کھیلوں میں شرکت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ سڈنی میں ہونے والے معذور کھلاڑیوں کے گزشتہ مقابلوں میں، جنہیں پیرالمپکس کہا جاتا ہے، امریکہ کے مارلن شرلی نے ٹانگوں سے محروم کھلاڑیوں کی ریس میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ انہوں نے ایک سو میٹر کا فاصلہ گیارہ عشاریہ صفر نو سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ مارلن شرلی کی ایک مصنوعی ٹانگ ایلومینیم اور کاربن فائبر کا جدید امتزاج ہے۔ اس پیش رفت کے سبب شرلی نے صحتمند کھلاڑیوں کے شانہ بشانہ ایتھنز اولمپکس میں شرکت کے لیے تیاری کی۔ ایک سو میٹر دوڑ کے مقابلوں میں کئی برس سے مقررہ فاصلہ طے کرنے کے وقت میں کچھ خاص فرق نہیں آیا، شاید اس لیے کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے۔ لیکن وہ کھیل جن کا انحصار جدید ٹیکنالوجی پر ہے ان میں آئے روز نئے سے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ اور اسی لیے ایتھلیٹ اور ان کے کوچ زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||