BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ کا مداح رکشہ ڈرائیور

روی، روبن سنگھ اور چمندا واس کے ساتھ
روی کے رکشے میں کئی کھلاڑی بیٹھے ہیں
کولمبو کے ساحل پر واقع تاج سمودرا ہوٹل سے باہر نکلیں تو آپ کا استقبال کرنے والے رکشہ ڈرائیوروں کا پہلا حملہ آپ کی جیب اور دوسرا حملہ عزت پر ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ عام کرایوں سے کئی گنا زیادہ بتاتے ہیں، ساتھ ہی مساج، خوبصورت لڑکی ڈسکو اور کیسینو کی دعوت کے ذریعے آپ کے دل کو ٹٹول کر ضرور دیکھتے ہیں۔

یہ سری لنکا کے دارالحکومت میں روز کا معمول ہے لیکن اسی تاج ہوٹل کے باہر اپنے مہمانوں کا منتظر ایک رکشہ ڈرائیور ایسا بھی ہے جس کی نظر نہ ان کی جیبوں پر رہتی ہے اور نہ ہی وہ کسی مساج یا ڈسکو کی تشہیر کرتا ہے بلکہ اس کی تمام تر گفتگو صرف اور صرف کرکٹ کے بارے میں رہتی ہے۔

تاج ہوٹل میں ٹھہرنے والا شاید ہی کوئی کرکٹ رپورٹر یا فوٹوگرافر ایسا ہو جو نفیر کے رکشہ میں نہ بیٹھاہو۔ان لوگوں کے لیے نفیر اجنبی ہے اور نہ نفیر کے لیے یہ لوگ۔

روی یا نفیر دلچسپ شخصیت کا مالک ہے وہ آپ کو نہ صرف اسٹیڈیم لے جاتا ہے بلکہ منی چینجر اور خریداری کا معاملہ ہو تو نفیر خوشی خوشی حاضر ہے۔

نفیر کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی ہے۔ اس نے کولمبو کے ایک غیرمسلم گھرانے میں آنکھ کھولی لیکن بعد میں اسلام قبول کرتے ہوئے ایک مسلم خاتون سے شادی کرلی یوں وہ روی سے عیسیٰ دین نفیر ہوگیا۔ کچھ لوگوں کے لیے وہ نفیر ہے لیکن کرکٹ کی کوریج کے لیے آنے والے رپورٹرز اور فوٹوگرافرز اسے روی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔

روی یا نفیر
روی کرکٹ کے بہت بڑے مداح ہیں

روی نے بہتر مستقبل کی خاطر سعودی عرب جاکر ملازمت کی لیکن معمولی اجرت نے اسے سری لنکا واپس آنے پر مجبور کردیا۔ اس نے رکشہ چلانا شروع کردیا اور اب وہ اس حد تک آسودہ حال ہے کہ رکشہ کے علاوہ اس کے پاس دو گاڑیاں بھی ہیں جو کولمبو سے باہر جانے والے لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ نفیراپنے بیٹے کو کینیڈا بھجوانے میں کامیاب ہوگیا ہے جہاں وہ کمپیوٹر پروگرامنگ کرتا ہے۔

نفیر کا کہنا ہے کہ ایک انگریز فوٹوگرافر نے اس کے بیٹے کا شوق دیکھ کر اسے لیپ ٹاپ دیا تھا جبکہ اس سلسلے میں بھارتی اسپنر انیل کمبلے نے اس کی بڑی مدد کی۔

نفیر اپنے مسافروں کووہ تین تصویریں ضرور دکھاتا ہے جو اس نے اپنے رکشہ میں لگا رکھی ہیں جن میں وہ اور اس کا بڑا بیٹا مرلی دھرن اور انیل کمبلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نفیر رکشہ میں بیٹھنے والوں کو اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس رکشہ میں سری لنکا اور کئی دوسری ٹیموں کے کرکٹرز بھی بیٹھ چکے ہیں دوسرے لفظوں میں آپ بہت خوش قسمت ہیں جو اس کے رکشہ میں بیٹھے ہیں۔ وہ بتاتاہے کہ سری لنکن بولر چمندا واس کو وہ اپنے رکشہ میں اسٹیڈیم سے اس کے گھر لے جاچکا ہے لیکن نفیر رکشہ چلاتے ہوئے دیگر ڈرائیوروں کے مقابلے میں زیادہ محتاط رہتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ایک رکشہ ڈرائیور کی غفلت کے نتیجے میں زمبابوے کے ہیتھ اسٹریک کا کندھا اترگیا تھا۔

نفیر کا کہنا ہے کہ کرکٹ اس کے دل ودماغ پر چھائی ہوئی ہے اور وہ اس سے دور نہیں رہ سکتا کیونکہ کرکٹ کی یہ قربت اسے ہردم خوش اور مطمئن رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد