پاکستان ایشیا کپ کا میزبان؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشین کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس یکم اگست کو کولمبو میں ہورہا ہے جس میں ایشین کرکٹ سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان، بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا، سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر موہن ڈی سلوا اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر علی اصغر شرکت کرینگے۔ ایشین کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق کے مطابق اجلاس میں آئندہ ایشیا کپ کی میزبانی کا فیصلہ ہوگا۔ اے سی سی کی خواہش ہے کہ آئندہ ایشیا کپ 2006ء میں پاکستان میں منعقد ہو۔ پاکستان ابھی تک ایشیا کپ کی میزبانی نہیں کرسکا ہے۔سری لنکا میں منعقدہ ایشیا کپ کا میزبان دراصل پاکستان تھا لیکن اس نے بھارت کے نہ کھیلنے کے سبب میزبانی سے دستبرداری کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اشرف الحق کے مطابق ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کے دوبارہ انعقاد کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ یہ چیمپئن شپ دو مرتبہ ہوچکی ہے۔ پہلی چیمپئن شپ1999 میں کھیلی گئی تھی جو پاکستان نے جیتی تھی۔ دوسری چیمپئن شپ کا انعقاد02-2001ء میں ہوا تھا لیکن اس میں بھارت نے شرکت نہیں کی تھی۔ تاہم پاک بھارت تعلقات بحال ہونے کے بعد صورتحال مختلف ہوچکی ہے اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ پاکستان نہ صرف ایشیا کپ کی میزبانی کرے گا بلکہ ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔ لیکن اشرف الحق کو صرف اس بات سے پریشانی ہے کہ اس چیمپئن شپ کے لیے بغیر کسی وقفے کے پنتالیس دن درکار ہیں۔ آئی سی سی کے مصروف ترین دس سالہ پروگرام میں یہ وقت نکالنا اتنا آسان نہ ہوگا۔ ایشین کرکٹ کونسل ایشیا کپ سے حاصل ہونے والی19 ملین ڈالرز کی آمدنی کو اپنے رکن ممالک پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات کو بھی بڑی رقم ملے گی۔ ایشین کرکٹ کونسل نے اس سال کے اواخر میں ایشیا الیون اور افریقہ الیون کے درمیان میچ کا پروگرام بھی ترتیب دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||