بھارت ٹیکس میں کمی کرے: مانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کرکٹ کونسل کے صدر احسان مانی نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں ٹیکس کے سخت قوانین کی وجہ سےمستقبل میں عالمی کپ اور چمپیئنز ٹرافی جیسے مقابلوں کا بھارت میں انعقاد کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ احسان مانی آئی سی سی ایوارڈز کے لئے ووٹنگ اکیڈیمی کے قیام کے سلسلے میں ان دنوں دہلی میں ہیں۔ احسان مانی کے بقول بھارت میں مستقبل میں کسی بھی مقابلے کے انعقاد سے پہلے ٹیکس میں چھوٹ ضروری ہے۔ احسان مانی کے مطابق آئی سی سی تجارتی بنیادوں پر چلنے والا ادارہ نہیں ہے۔ ان کے بقول کیریبئن حکومتوں نے دوہزار سات میں ہونے والے اگلے ورلڈ کپ کے لئے ٹیکس میں مکمل چھوٹ دے دی ہے۔ بھارت میں دنیا میں کرکٹ کے سب سے زیادہ ٹی وی ناظرین ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ بھارت میں سن دو ہزار چار کے چمپئینز ٹرافی مقابلے کا انعقاد ہونا تھا جو بھارتی حکومت کےمتوقع آمدنی پر ٹیکس میں چھوٹ دینے سے انکار کے بعد برطانیہ منتقل کر دیا گیا۔ دریں اثناء بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت کی حکومت اس معاملے پر ہمدردانہ غور کرے گی۔ جگ موہن ڈالمیا نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت کے نہ ماننے کی صورت میں کرکٹ کنٹرول بورڈ بھارتی عوام سے رجوع کرے گا اور انہیں عالمی مقابلوں کے بھارت میں عدم انعقاد کی وجہ بتائے گا۔ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ آئی سی سی سے یہ یقین دہانی بھی چاہتا ہے کہ ہر تیسرا عالمی کپ جنوبی ایشیا میں ہونا چاہیے کیونکہ دس میں سے چار ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کا تعلق اس خطے سے ہے۔ آئی سی سی کے صدر نے یہ شکایت بھی کی کہ انیس سو چھیانوے کے عالمی کپ سے متعلق ٹیکس معاملات کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے محمد اظہرالدین کے مبصر کے طور پر کرکٹ میچوں میں شرکت پر بھی تنقید کی۔ یاد رہے کہ اظہرالدین پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||