BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 July, 2004, 13:57 GMT 18:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہانگ کانگ بھی کرکٹ میں

News image
سری لنکا میں ہونے والے آٹھویں ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کی کرکٹ ٹیم کی شمولیت کے ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلے والی ٹیموں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے ۔

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے دس ممالک کے علاوہ جن دیگرآٹھ ممالک نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا ہے ان میں کینیڈا، کینیا، اسکاٹ لینڈ، متحدہ عرب امارات، ہالینڈ، نمیبیا اوراب ہانگ کانگ شامل ہیں۔

ایشیاکپ میں شرکت کرنے والی ہانگ کانگ ٹیم مختلف قومیتوں کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جن میں سات پاکستانی، دو بھارتی، دو برطانوی جبکہ ایک ایک نیپالی، آسٹریلوی اور چینی شامل ہیں۔

کپتان راہول شرما43 سال کی عمر میں ٹورنامنٹ کے سب سے عمر رسیدہ کرکٹر ہیں جبکہ ساڑھے سولہ سالہ ندیم احمد ٹورنامنٹ کے سب سے کم عمر کرکٹر ہیں۔

کپتان راہول شرما کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں عموما ویک اینڈ پر کرکٹ کھیلی جاتی ہے لیکن اب جبکہ اسے ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کا حق مل چکا ہے اس کی کوشش ہوگی کہ وہ ایک ایسی ٹیم کے طور پر سامنے آئیں جو سخت جان حریف ہو۔

راہول شرما کو اس بات کا احساس ہے کہ ان سمیت کئی کرکٹرز کی عمر تیس سال سے زائد ہوچکی ہیں اورانہیں جلد ہی انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑنی پڑے گی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ کچھ برسوں سے کرکٹ کافی منظم ہوئی ہے اور جونیئر کرکٹ پر بہت توجہ دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں باصلاحیت کرکٹرز سامنے آئیں گے۔

شرما ٹیم کی فیلڈنگ اور بولنگ سے مطمئن ہیں لیکن ان کے خیال میں بیٹنگ میں مزید بہتری کی گنجائش ہے

راہول کہتے ہیں کہ ایسوسی ایشن ہانگ کانگ میں کرکٹ کے فروغ کے لئے بہت محنت کررہی ہے پہلے لال جے سنگھے اور اب سابق بھارتی آل راؤنڈر رابن سنگھ کی کوچنگ میں اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

ایشیا کپ میں ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات کے میچوں کو ون ڈے انٹرنیشنل کا درجہ دیئے جانے پر پاکستان نے آئی سی سی کے اجلاس میں سخت اعتراض کیا تھا لیکن آئی سی سی نے یہ اعتراض مسترد کردیا۔

ہانگ کانگ کی ٹیم کو ایشیاکپ میں شرکت کا موقع چار سال قبل اے سی سی ٹرافی کا فائنل کھیلنے کی وجہ سے ملا ہے تاہم حالیہ اے سی سی ٹرافی میں ہانگ کانگ کی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ رہی اور وہ سیمی فائنل میں نہ پہنچ سکی۔

ٹیم میں شامل لاہور سے تعلق رکھنے والے طویل قامت فاسٹ بولر افضال حیدر چار سال قبل بہتر مستقبل کی تلاش میں ہانگ کانگ گئے تھے لاہور میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن کھیلنے کے کم مواقعوں نے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

یہی صورتحال نجیب عامر کے ساتھ رہی وہ بھی انضمام الحق، یوسف یوحنا اور دوسرے کرکٹرز کے ساتھ کلب اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں ان دونوں کو خوشی ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے کی خواہش پوری ہوگی۔ آخر وہ کوئی غیر نہیں ان کے اپنے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد