امریکہ: ایتھلیٹس بچوں میں منشیات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کھیلوں میں منشیات کی روک تھام کرنے والی ایجنسی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کھیلوں میں اپنی کارکرگی کو بہتر بنان کے لیے اب گیارہ سالہ بچے بھی منشیات کا استعمال کرنے لگے ہیں۔ امریکی سینیٹرز کو لکھے ایک خط میں اس ایجنسی نے اس کی ذمہ داری بچوں کو مختلف کھیلوں کی تربیت دینے والوں پر ڈالی ہے۔ ایجنسے کا کہنا ہے کہ ان بچوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے والی ادویات کے استعمال کو فروغ دینے کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ کوچ ہیں جو ان کم عمر کھلاڑیوں کو اولمپکس کی ٹیم میں شمولیت کا لالچ دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ اولمپکس میں مردوں اور خواتین کے سو میٹر مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والے دونوں امریکی ایتھلیٹس پر منشیات کے استعمال کا الزام ہے اور دونوں کے خلاف امریکہ میں تحقیقات جاری ہے۔ یہ دونوں ایتھلیٹ ہیں ٹم مونٹگومری اور میرین جونس اسکے علاوہ دوسرے کئی امریکی کطلاڑیوں پر بھی اس نوع کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں اور ان کے جیتے ہوئے اعزاز ہی واپس نہیں لیے گئے، ان پر پابندیاں بھی لگ چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||