BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں کرکٹ لیگ
امریکہ میں کرکٹ کی شروعات
کل پٹیل کا خیال ہے کہ تین سال میں پرو کرکٹ نہایت ہی مقبول ہوگا
پرو کرکٹ امریکہ کا پہلا پیشہ ور کرکٹ مقابلہ ہے اور اس کے پہلے سیزن میں آٹھ ٹیمیں حصہ لینے والی ہیں۔

اس مقابلے کے پیچھے کل پٹیل کا ہاتھ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال گرنل نے کل پٹیل سے امریکہ میں کرکٹ کے بارے میں ان کی امیدوں پر بات چیت کی۔ امریکہ میں کرکٹ نہیں، بیس بال نہایت ہی مقبول کھیل ہے۔

سوال۔ آپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں لگ بھگ سات اعشاریہ پانچ ملین لوگ کرکٹ کے شوقین ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اب تک ملک میں پیشہ ور کرکٹ کیوں نہیں کھیلا جا رہا؟

جواب۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ میں کرکٹ کو ایک نیا گھر مل سکتا ہے۔ اس بارے میں ہم نے جو تفتیش کی ہے وہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ امریکہ ایک بہت بڑا ملک ہے۔ بھلے ہی امریکہ میں کرکٹ شوقین کی تعداد سات اعشاریہ پانچ ملین ہے مگر یہ لوگ ہزاروں میلوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ کرکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے وقت اور پیسے کی بھی ضرورت ہے۔

سوال۔ اس پروجیکٹ میں اور کون کون شامل ہیں؟

جواب۔ میرے علاوہ کمل ورما اس پروجیکٹ میں شامل ہیں اور انہوں نے آٹھ ٹیموں کے لئے آٹھ میٹرو علاقوں میں کھیلنے کے لئے لائیسنسز خریدی ہیں۔

ہمارے ساتھ ایک میڈیا پاٹنر بھی ہے۔ مگر اس وقت میں ان کے بارے میں زیادہ تفصیل سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگلے کچھ ہفتوں میں وہ اپنا ٹی وی سٹیشن شروع کرنے والے ہیں۔

ہمارے میڈیا پاٹنر نے پرو کرکٹ کو 150 گھنٹوں کا ائیر ٹائیم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ امریکہ میں کرکٹ کے لئے سالانہ 50 گھنٹوں کا ائیر ٹائیم مخصوص رکھیں گے۔

سوال۔ آپ نے اس مقابلے کے لئے بیِس اوور کے میچوں کو ہی کیوں چنا؟

جواب۔ہم نے لگ بھگ دو تین سال تک اس کھیل اور لوگوں کی اس میں دلچسپی پر تفتیش کی ہے۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر امریکی لوگ کسی بھی کھیل، فلم یا ڈرامے پر تین گھنٹوں سے زیادہ وقت سرف نہیں کرتے۔ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بیس اوور کا کھیل ہی صحیح رہے گا۔

سوال۔ پرو کرکٹ کو بین الاقوامی کرکٹ بورڈ نے منظوری نہیں دی ہے۔ آپ نے ان کے ساتھ کام کیوں نہیں کیا؟

جواب۔ ہم بھی یہی چاہتے تھے اور ہم نے ان کے سامنے ایک پرسنٹیشن بھی کی تھی۔ انہوں نے ہمیں اپنی دعائیں تو دیں مگر ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف قومی بورڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم 19 جون کو امریکی کرکٹ بورڈ کے پاس گئے اور ان سے بات کی۔ بورڈ کے صدر گلاڈسٹون ڈینٹی نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارے کام سے اتفاق رکھتے ہیں مگر انہیں اپنے بورڈ سے اس بارے میں بات کرنی پڑے گی۔ تب سے ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔

سوال۔ آپ نے وعدہ کیا ہے کہ مقابلے میں بین الاقوامی کرکٹ ستارے موجود ہونگے، مگر اب تک اس کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ کیا آپ کو کرکٹروں کی دلچسپی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

جواب۔ ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ میں آج تک کبھی ایسا کچھ کیا نہیں گیا ہے اور سب کے دلوں میں اس کو لے کر کئی سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر اب تقریباً چالیس بین الاقوامی کرکٹروں نے ہمارے مقابلے میں شامل ہونے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ کرکٹر بھارت، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز جیسے ممالک سے ہیں۔

سوال۔کیا یہ بیس اوور کا کھیل برطانیہ میں کھیلے جانے والے ٹونٹی 20 کی ہی طرح ہے؟

جواب۔ یہ ٹونٹی20 جیسا ہی ہے مگر ہم نے اس میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ ایک اوور میں چھ کی جگہ پانچ بالیں ہونگی اور ایک اننگ میں ایک سو بالیں ہونگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد