پاکستانی ویٹ لفٹرز پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیف گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پاکستان کے تین ویٹ لفٹرز کو قوت بخش ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے جرم میں دوسال تک کھیل میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے ۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل سید عارف حسن نے بی بی سی کوبتایا کہ اس سال کے اوائل میں ہونے والے سیف گیمز میں طلائی تمغے جیتنے والے تین ویٹ لفٹرز اکبر علی( 62 کلوگرام ) حسن اسلم (94 کلوگرام ) اور عالم دین کاکڑ ( 105 کلوگرام ) کے ڈوپ ٹیسٹ کے نتائج مثبت پائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان کے ایک باکسر پر بھی ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے جرم میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سیف گیمز ڈوپنگ کنٹرول کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو مطلع کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایسوسی ایشن کے قواعد و ضوابط کے تحت ان تینوں ویٹ لفٹرز پر دوسال تک مقابلوں میں حصہ لینے کی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایسوسی ایشن نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیفٹننٹ جنرل عارف حسن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران باکسر نعمان کریم نے جس کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے بتایا تھا کہ اسے گردے میں تکلیف کی شکایت ہوئی تھی جس پر اس نے دوا استعمال کی تھی اسے علم نہیں تھا کہ اس میں ممنوعہ اجزا شامل تھے ۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ یہ صورتحال یقیناً مایوس کن ہے تاہم انہوں نے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے خلاف کارروائی کو خارج ازامکان قرار دے دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||