پاک انڈیا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام میں جان ڈالنے کے لیے بھارت اور پاکستان کی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیموں کے درمیان میچز کرانے کی تجویز زیر غور ہے اور ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں فیصل آباد اور ممبئی کی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہر یار خان نے یہ اعلان جمعہ کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ یہ پریس کانفرنس پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشاورتی کمیٹی کے سات گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد ہوئی۔ شہر یار خان نے کہا کہ مشاورتی کمیٹی کا مشورہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو دلچسپ بنانے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈومیسٹک سطح پر میچز ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ سکول کی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان مقابلوں سے خطے میں کرکٹ کا معیار بلند کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چيئر مین کے بقول ان کی اس سلسلے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا کے ساتھ غیر رسمی بات چیت ہو چکی ہے۔ یہ مشاورتی کمیٹی سابق بیروکریٹ معین افضل، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جرنل عارف حسن، ایچیسن کالج کے پرنسپل شمیم خان، ایک بینک کے سربراہ علی رضااور سابق ٹیسٹ کھلاڑی حنیف محمد پر مشتمل ہے اور جیسا کہ ناموں سے ظاہر ہے، ایک رکن کے علاوہ یہ کمیٹی نان ٹیکنوکریٹس پر مبنی ہے۔ مشاورتی کمیٹی کے ساتھ طویل اجلاس کے بعد شہر یار خان نے بتایا کہ چونکہ کرکٹ کی عمارت ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے پر کھڑی ہے لہذٰا اس پر نظر ثانی کی بہت ضرورت ہے البتہ ادارہ جاتی کرکٹ ختم نہیں کی جا سکتی۔ کمیٹی کے نزدیک ڈومیسٹک کرکٹ میں جان ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں پیسہ شامل کیا جائے اور کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کھیل کر مالی فائدہ حاصل ہو۔ کمیٹی نے شہروں کے درمیان ہونے والے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کے میچز ٹی وی پر دکھانے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ اس کے لیے سپانسر شپ ڈھونڈی جائے۔ شہر یار خان نے بتایا کہ دومیسٹک کرکٹ کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے بیس بیس اوورز کا ایک ٹورنامنٹ بھی اس سال سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سال سے قائداعظم ٹرافی کی دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان فائنل بھی کرایا جائے گا اور ایسا آسٹریلوي نظام کو دیکھ کر کیا جا رہا ہے۔ پی سی بی کے چئر مین نے کہا کہ تمام قومی کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کھیلنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اب کوئی بڑے سے بڑا کھلاڑی بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے بغیر ٹیم میں جگہ نہیں پا سکتا۔ مشاورتی کمیٹی نے اجلاس میں کرکٹ بورڈ کے آئین، بڑے سٹیڈیمز کی حالت بہتر کرنے اور بورڈ کے انتظامی معاملات بھی زیر غور آئے۔کمیٹی نے کرکٹ بورڈ کو انٹرنل آڈیٹر اور اینٹی کرپشن یونٹ بنانے کی تجویز دی۔ کمیٹی نے پاک بھارت سیریز میں پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اس ضمن میں سلیکشن کمیٹی کے سربراہ وسیم باری اور جاوید میانداد نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف بیان کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران فاسٹ بالر شیعب اختر کے بارے میں ہونے والے سوال کے جواب میں شہر یار خان نے کہا کہ شیعب اختر پر واضح کر دیا گیا ہے کہ انہیں ٹیم میں جگہ پانے کے لیے چار شرائط پوری کرنی پڑیں گی۔ ’ایک تو یہ کہ انہیں صرف نام کی بنیاد پر ٹیم میں جگہ نہیں ملے گی ٹیم میں آنے کے لیے انہیں مکمل طور پر اپنی فٹنس دکھانی پڑے گی۔ شعیب کو ٹیم اور ملک کے لیے کھیلنا ہوگا اور سو فیصد کارکردگي کا مظاہرہ کرنا ہو گا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||