BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناصر حسین: ریٹائرمنٹ کا اعلان
News image
انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے ہر سطح کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ایک سو تین رن بنا کر انگلینڈ کی فتح میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بعد سے ناصر حسین اپنے کیریئر کے عروج پر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائیر ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

ایسکس کے کوچ گراہم گوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے کیونکہ ناصر اپنے فیصلہ خود کرتے ہیں لہذا ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ناصر حیسن ٹیسٹ کرکٹ کے معیار پر اب بھی پورے اترتے ہیں۔

ناصر حسین اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں چھیانوے میچ کھیل چکے ہیں۔ تاہم لارڈز میں اپنی زندگی کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑی اینڈریو سٹراس کے ایک سو بارہ اور تراسی رن بنانے کے بعد ناصر حسین نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے کرکٹ سے ریٹائیر ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

ناصر حسین کے فیصلے کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک یہ ان کے اس فیصلے سے سلیکٹر کی مشکل آسان ہو جائے گی اور دوسرے یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے ریٹائر ہونے کا وقت آ گیا ہے اور وہ اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

گراہم گوچ نےکہا کہ ناصر حسین کا ٹیسٹ کرکٹ میں ایک طویل کیریئر ہے اور وہ یقینی طور پر اپنی مرضی سے ریٹائیر ہونا چاہیں گے بجائے اس کے کہ ان کو اس فیصلے پر مجبور کیا جائے۔

لارڈز کے ہیرو سٹراس اور سابق کھلاڑی ایلک سٹیورٹ نے حسین پر زور دیا کہ وہ ابھی ریٹائیر نہ ہوں۔

اس سے پہلے ناصر حسین نے اِس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ سے جاری حالیہ ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں برطانیہ نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دی۔

ناصر حسین
عمر: 36 سال
ٹیسٹ: 96
کل سکور: 5764
کپتانی کی: 45 ٹیسٹ
جیتے:17 ٹیسٹ
بیٹنگ اوسط:37.18
اس ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں چھتیس سالہ ناصر حسین نے سینچری بنائی اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ ’یہ میرے لئے بہت بڑا فیصلہ تھا جس تک پہنچنے میں مجھے کچھ ماہ لگے‘۔ ’میں بہت عرصے سے ریٹائرمنٹ کے لئے مناسب وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اتوار کو میں نے سمجھا کہ خیر آباد کہنے کا وقت آگیا ہے۔‘

حسین نے جو اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے کہا کہ ’بڑھتی ہوئی عمر کا مجھ پر اور میرے جسم پر اثر پڑ رہا تھا‘۔ ’میں اس کے ساتھ اور مخالف ٹیموں کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار تھا لیکن اینڈریو سٹراس کی صورت میں سامنے آنے والے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار نہیں تھا‘۔

سٹراس کپتان مائیکل وان کی عدم موجودگی میں لارڈز ٹیسٹ میں ٹیم میں شامل کئے گئے تھے اور انہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنا ڈالی۔

اگلے میچ میں جب مائکل وان ٹیم میں دوبارہ شامل ہوں گے ناصر حسین کے فیصلے سے سلیکٹرز کے لئے آسانی پیدا ہو جائے گی۔

حسین نے کہا کہ ان کے جذباتی ہونے کی وجہ اداسی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم دِن ہے۔

ناصر حسین نے کہا اتوار کے روز انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا ہے۔ پیر غیر معمولی دن تھا۔ اس دن بہت سی اچھی باتیں ہوئیں اور میرے خیال میں میرے لئے وہ بہت اچھا دِن تھا‘۔

’اس میں تھوڑی سی خود غرضی بھی ہے۔ مجھے سیریز بیچ میں چھوڑنا اچھا نہیں لگا لیکن اگر میں کھیلنا جاری رکھتا تو حالات مزید بِگڑ جاتے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں پیرکے روز اپنا پسندید شاٹ کور ڈرائیو کھیل کر انگلستان کو جیت سے ہمکنار کرانا اچھا لگا۔

ناصر حسین نے کہا کہ انہوں نے ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر اور کپتان مائکل وان کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے ڈنکن سے بات کی تھی۔ وہ مصر تھے کہ مجھے اس انداز سے ریٹائر ہونا چاہیے جو میرا حق ہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ناصر میں چاہتا ہوں کہ تم ابھی مت جاؤ۔ نہ ہی کسی سیلیکٹر نے اور نہ ہی کپتان نے ایسا کہا‘۔

ناصر حسین نے ٹیم کے کوچ اور اپنے والد جو کا شکریہ ادا کیا۔

حسین نے چھیانوے ٹیسٹ میچ کھیلے اس جس میں سے انہوں نے پینتالیس ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی کپتانی کی۔ بحیثیت کپتان انہوں نے سترہ میچ جیتے ہیں۔انہوں نے کہا وہ صرف ریکارڈ کے لئے سو میچ نہیں کھیلنا چاہتے تھے۔

ناصر حسین نے سینتیس اعشاریہ اٹھارہ کی اوسط سے پانچ ہزار سات سو چونسٹھ رنز بنائے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز انیس سو نوّے میں ویسٹ انڈیز کے دورے سے کیا۔

انہوں نے چودہ سنچریز اور تینتیس نصف سنچریاں بنائیں اور ان کا سب سے زیادہ سکور دو سو سات تھا جو انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف انیس سو ستانوے میں بنائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد