کرکٹ بورڈ پر عمران خان کا غصہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے فاسٹ بولر شعیب اختر سے ’روا رکھے گئے سلوک‘ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام کے بعد عمران خان نے کہا کہ اگر وہ شعیب اختر ہوتے تو وہ ان تمام افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے جنہوں نے بقول عمران خان کے ان کی کردار کشی کی اور فٹنس سے متعلق الزامات لگائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ بہانہ تھا کیونکہ پہلے شوکت خانم سپتال اور پھر ڈرہم کاؤنٹی کی میڈیکل رپورٹس نے شیعب اختر کی انجری ثابت کردی۔ ’ کیا کسی نے شعیب اختر سے معافی مانگی۔ وہ جب پاکستان ٹیم میں واپس آکر کھیلے گا تووہ یہ بات یقینا سوچے گا۔‘ عمران خان کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک ایسے بولر کے خلاف انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا جس نے چھ ماہ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کو تین سیریز میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ورلڈ کپ کے فاتح کپتان نے جو اب تحریک انصاف کے سربراہ ہیں کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی ڈسپلن سے مبرا نہیں ہے لیکن اگر پاکستان کرکٹ بورڈ سمجھتا ہے کہ شعیب اختر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کے خلاف اسی وقت کارروائی کی جاتی نہ کہ انتظار کیا جاتا۔ ’اگر انکوائری کرنی ہی تھی تو خاموشی سے کی جاتی شعیب اختر کو دنیا بھر کے سامنے تماشا نہیں بنایا جاتا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||