یکطرفہ میچ: کرکٹ کا نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر بیری رچرڈز نے کہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ اتنی زیادہ یکطرفہ ہوگئی ہے کہ بہترین کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ لاہور میں ہونے والے ایک ایشین کرکٹ کونسل کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بیری رچرڈز نے کہا کہ کسی بھی ملک کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ دیئے جانے کے عمل میں ذمہ داری سے کام لینا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو کرکٹ کی تاریخ میں ایک بار پھر ’کیری پیکر والی صورتحال‘ پیدا ہوجائے گی۔ آسٹریلیا کے بزنس مین کیری پیکر نے سن انیس سو ستر کی دہائی میں کھلاڑیوں کو زیادہ معاوضہ دینے کے لئے ورلڈ سیریز کے نام سے ایک علیحدہ سیریز شروع کردی تھی۔ بیری رچرڈز کا کہنا تھا کہ یکطرفہ یا ایسے مقابلوں میں جس میں ایک سائیڈ بہت مضبوط ہو کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حال میں زمبابوے نے سری لنکا کے ہاتھوں پانچ زیرو سے پوری سیریز ہاری ہے جبکہ سن دو ہزار میں بنگلہ دیش کو ملنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے درجے کے بعد سے وہ اٹھائیس کوششوں میں صرف ایک بار جیتنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔ بیری رچرڈز نے کہا کہ کرکٹ ٹیموں کے درمیان کارکردگی کے اعتبار سے خلیج بڑھتا جا رہا ہے اور آئی سی سی کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||