میچ پاکستان کے ہاتھ میں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کےتیسرے دن کے کھیل میں پاکستان کی کارگردگی اچھی رہی جس کے بارے میں پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان کا کہنا ہے کے اس وقت پاکستان جس پوزیشن میں ہے وہ بڑے آرام سے یہ میچ جیت سکتا ہے ۔ عمران کا کہنا ہے بھارت جتنا بھی اسکور کرلے وکٹ جس طرح کام کر رہی ہے اس سے پاکستان کے بلے بازوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ایک تو بھارت پر دباؤ ہوگا دوسرے گیند تھوڑاگھومے گی جس سے تیز بالروں کو مدد ملیگی ۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم میں خاص طور پر محمد سمیع کی بالنگ کافی خطرناک ہے اس کے علاوہ عمر گل نے بھی اچھی بالنگ کی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ سہواگ وکٹ پر موجود ہیں ان کی موجودگی سے اس بات کا کتنا امکان ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان کی سبقت ختم کرکے پاکستان کے سامنے بڑا اسکور سامنے رکھ دے۔ عمران خان نے کہا کہ سہواک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بڑی تیزی سے اسکور کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان پر دباؤ ہوگاانہیں معلوم ہے کہ انھیں یہ بڑی مختلف اننگز کھیلنی ہےاس میں وہ فری اسٹائل نہیں کھیل سکتے ان کو معلوم ہے کہ اگر ان کی وکٹ گری تو بھارتی ٹیم کو شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عمران کا یہ بھی خیال تھا کہ کھیل کے پہلے سیشن میں بالر بھی تازہ دم ہوں گے گیند بھی گھومے گی تو اس میں بھارتی ٹیم کا ٹیسٹ ہوگا۔ شعیب اختر کی کارگردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بالنگ ایکشن اس وقت ٹھیک نظر نہیں آرہا شعیب بھاگ کر رن اپ کے بعد جو ایکشن میں آتے ہیں اس میں ان کی جمپ نہیں آرہی اور اس کی وجہ سے ان کے اگلے بازو کا پورا استعمال نہیں ہو رہا ۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان ٹیم کی بد قسمتی ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سینئیر با لر ہے مشورہ دینے کے لئے اور نہ ہی کوئی نالنگ کوچ ہے کسی میں بھی اس وقت بالروں کو سمجھانے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ عمران کا کہنا ہے کہ ہر شعبے کے لئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے اور کھلاڑیوں میں جو تھوڑا نقص ہے وہ دور ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||