BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقدر کا سکندر

مقدر کا سکندر
جب سکندر بخت نے انڈیا میں تہلکہ مچایا تو اس وقت مقدر سکندر سکرین رہی تھی
سکندر بخت نے جس دور میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلی اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کا پیس اٹیک عمران خان اور سرفراز نواز جیسے تیز رفتار اور سوئنگ کے ماہر بولرز پر مشتمل تھا۔ لیکن سکندر بخت نے ہوا میں لہراتے ہوئے نہ صرف اپنے سینئرز کو بھرپور معاونت فراہم کی بلکہ اپنے مخصوص ایکشن میں بولنگ کرتے ہوئے حریف بیٹسمینوں کو خود سے غافل نہیں ہونے دیا۔

سکندر بخت کو پاکستان کی طرف سے 26 ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع مل سکا جن میں انہوں نے 69 وکٹیں حاصل کیں۔ 80-1979ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ بھارت نتائج کے اعتبار سے انتہائی مایوس کن تھا لیکن اسے سکندر بخت کے کریئر کا نقطۂ عروج کہا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے5 ٹیسٹ میچوں میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 24 وکٹیں حاصل کیں۔

بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو سکندر بخت بھی ماضی میں کھوگئے اور بھارت سے ہونے والے میچز کو یاد کرنے لگے۔

انہوں نے کہا: ’ 79-1978ء میں بشن سنگھ بیدی کی قیادت میں بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی تو میں اس سیریز کے دو ٹیسٹ میچوں میں کھیلا ۔ فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں مجھے بھارت کی پہلی اننگز میں 24 اوورز میں 86 رنز دینے کے باوجود کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ لاہور ٹیسٹ میں میری جگہ سلیم الطاف کو ٹیم میں شامل کیاگیا۔ تاہم کراچی ٹیسٹ میں میری واپسی ہوئی یہ ٹیسٹ پاکستان سنسنی خیز مقابلے کے بعد 8 وکٹوں سے جیتا ۔ اس میچ میں اقبال قاسم کے ساتھ میں نے آخری وکٹ کی شراکت میں 38 رنز کا اضافہ کیا جس میں میرا حصہ 22 ناٹ آؤٹ رہا۔

’پہلی اننگز میں میں نے وینگسارکر اور کرمانی کی وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں بھی وینگسارکر کی وکٹ میرے حصے میں آئی۔‘

News image
سکندر بخت اور وقار یونس

’ایک سال بعد آصف اقبال کی قیادت میں بھارت کا دورہ کرنے والی پاکستان ٹیم میں میں بھی شامل تھا۔ 19 سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا یہ پہلا دورۂ بھارت تھا۔ اس موقع پر بھارت بھر میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا تھا اور عام خیال یہی تھا کہ جس طرح پاکستان میں کھیلی گئی سیریز میں پاکستان نے بھارت کو آؤٹ کلاس کردیا تھا۔ اس دورے میں بھی صورتحال اسی طرح رہے گی ۔ بھارتی کپتان سنیل گاوسکر نے پاکستان ٹیم پر نفسیاتی وار کرتے ہوئے یہ بیان دے دیا تھا کہ پاکستان ٹیم انہیں کچل کر رکھ دے گی ۔ پاکستانی بیٹسمینوں کی حد سے زیادہ خود اعتمادی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے سیریز سے پہلے ہی اپنے ذہنوں میں یہ طے کرلیا تھا کہ وہ کتنے کتنے رنز بنائیں گے لیکن وسیم راجہ اور جاوید میانداد کے علاوہ دیگر بیٹسمین ناکام رہے۔

’ہمارے ایک بیٹسمین سے رنز نہیں ہورہے تھے اور وہ بری طرح پریشان تھے کہ نیند کے لئے سلیپنگ پلز استعمال کررہے تھے ان کا خیال تھا کہ ان پر کسی نے جادو کردیا ہے۔

’اس سیریز میں پاکستان کو سرفراز نواز کی خدمات حاصل نہیں تھیں۔ دوسری جانب عمران خان بھی مسل پل ہوجانے کے نتیجے میں اپنا اثر دکھانے سے قاصر تھے۔ لہذا بولنگ کا سارا دباؤ مجھ پر آگیا تھا ۔ میں بنگلور میں پہلا ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ دہلی میں عمران خان پہلی اننگز میں آٹھویں اوور کے بعد بولنگ سے باہر ہوگئے۔ اس موقع پر میں نے 8 وکٹیں حاصل کرڈالیں جو میرے کریئر کی بہترین بولنگ بھی تھی۔

’اس شاندار کارکردگی کے ضمن میں مجھے ایک بات ابھی تک یاد ہے کہ ہوٹل سے سٹیڈیم کے راستے میں ایک قد آدم سکرین نصب تھی جس پر اس روز کی خاص کارکردگی درج ہوتی تھی ۔ پاکستان کی اننگز میں کپل دیو نے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں جو اس اسکرین پر نظر آئی تھی۔ مجھے توقع تھی کہ میں بھی بس میں ہوٹل جاتے ہوئے اس اسکرین پر اپنی پرفارمنس کا ذکر ضرور دیکھوں گا لیکن مجھے اسوقت سخـت مایوسی ہوئی جب اس اسکرین پر میرانام اور 69 رنز کے عوض 8 وکٹوں کی شاندار کارکردگی کا ذکر دور دور تک نہیں تھا۔ لیکن اخبارات نے میری پرفارمنس کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا بلکہ مجھے مقدر کا سکندر بھی کہا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دورے کے موقع پر امیتابھ بچن اور ریکھا کی فلم مقدر کا سکندر ریلیز ہوئی تھی۔ لہذا میری پرفارمنس کی مناسبت سے مجھے مقدر کا سکندر کہہ کر پکارا گیا۔

’سیریز کے بمبئی ٹیسٹ میں بھی میں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور یہی کارکردگی کانپور میں بھی دوہرائی لیکن جب میں دورے سے واپس آیا تو مجھے آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں ڈراپ کردیا گیا۔

سکندر بخت کہتے ہیں کہ ’میرے کریئر میں آنے والے اتارچڑھاؤ کی وجہ یہ بھی رہی کہ میں نے تعلقات کی بنیاد پر کرکٹ نہیں کھیلی اور مضبوط لابی نہیں بنائی۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد