BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 March, 2004, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیف گیمز: کسی کو علم کیوں نہیں؟

سیف
جناح سٹیڈیم جو سیف کھیلوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے
کس نے میڈیا کو سیف گیمز کو دور رکھا۔

پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر روالپنڈی میں نوّیں سیف گیمز کا انعقاد ’آخرکار‘انتیس مارچ سے سات اپریل تک ہو رہا ہے۔

ان کھیلوں کا انعقاد سن دو ہزار ایک میں اسلام آباد میں ہی ہونا تھا۔ لیکن پاکستان اور ہندوستان کے مابین کشدیدگی اور ہندوستان کی ان کھیلوں میں شرکت سے معذوری کی بنا پر ان کھیلوں کو دو بار ملتوی کیا گیا اور ایک بار تو ان کی منسوخی کا اعلان بھی کر دیا گیا۔

لیکن اب جبکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں پچھلے چند ماہ سے بہت بہتری آئی ہے اور ہندوستان بھی ان کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت کر رہا ہے اسلام آباد میں ایک بہت بڑا ’میلہ‘ جمنے کو ہے، جس میں لگ بھگ سترہ سو کھلاڑی پندرہ مختلف کھیلوں میں شرکت کریں گے۔

سیف گیمز کے ان مقابلوں میں پاکستان میں عوامی سطح پر مقبولیت کے حامل کھیل ’سکوائش، کبڈی، فٹبال، بیڈمنٹن، باکسنگ اور والیبال‘ بھی شامل ہیں۔

نوّیں سیف گیمز کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان مقابلوں میں سارک کے ممبر ممالک ’بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا، مالدیپ، نیپال، سری لنکا اور پاکستان کے علاوہ پہلی بار ’افغانستان‘ کے کھلاڑی بھی ان مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو قابل ذِکر ہے کہ مختلف مقابلوں میں شرکت کے لئے افغانستان سے آنے والے کھلاڑیوں میں ’تین لڑکیاں‘ بھی شامل ہیں جو کے ’اتھلیٹک‘ کے مقابلوں میں افغانستان کی نمائندگی کریں گی۔

لیکن اس کے باوجود سیف گیمز کی یہ تمام چہل پہل لوگوں کو کہیں دکھائی نہیں دے رہی، کیوں؟

سیف
لیاقت جمنازیم

طویل عرصے کی تیاریوں کے بعد اب جب کہ ان کھیلوں کے لیے میدان سج چکُے ہیں ۔ میڈیا کی توجہ کا مرکز نوّیں سیف گیمز (کھیلوں) کے علاوہ کچھ اور ہے، اسی لئے ابھی تک اس سلسلے میں جو تیاریاں ہوئی ہیں انہیں میڈیا پر نمایاں کوریج نہیں مل پائی ہے۔

اس کی وجہ کہیں کرکٹ تو نہیں؟ جب سے ہندوستان کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور خاص طور پر جب سے ان کے مابین وَن ڈے کرکٹ سیریز شروع ہوئی ہے تب ہی سے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پر فقط کرکٹ کے ہی قصّے چَھپے اور چَھائے دکھائی دیتے ہیں۔

قصور کس کا ہے؟ کرکٹ، جس نے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے یا پھر اُن کھیلوں کا جو سیف گیمز کے سلسلے میں کھیلے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں ایک سبزی فروش جو ریڈیو پر کرکٹ میچ کی کمنٹری سُن رہا تھا نے سیف گیمز کے بارے میں کہا کہ ’میں سیف گیمز کے بارے میں سُن تو کافی عرصے سے رہا ہوں، لیکن جب سے کرکٹ شروع ہوئی ہے اور کسی کھیل کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔

اس میں میڈیا کا بھی کیا قصور، کرکٹ نے تو ہمارے ذہنوں کو مفلوج کر دیا ہے اور کسی طرف تو ہماری توجہ جاتی ہی نہیں، خواہ وہ سیف گیمز جیسے کھیلوں کے بڑے مقابلے ہی کیوں نہ ہوں جن کے لیے یہاں قریباً دو سال سے تیاریاں ہو رہی ہیں، بس کرکٹ سب کچھ ’کھا‘ گئی۔

اسلام آباد ہی میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالبعلم راحیل جاوید نے کہنا تھا کہ سیف گیمز کی اہمیت تو پاک و ہند تعلقات کی ہی وجہ سے تھی اور یہ تعلقات تو کرکٹ نے بہتر کر دیئے، شاید یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے برعکس اخبارات میں سیف گیمز کو بھرپور کوریج نہیں مل پائی۔

سیف
سٹیڈیم کا ایک رخ

سیف گیمز کے ڈائریکٹر میڈیا سید مجتبٰی ترمذی نے کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ سیف گیمز کو جس طرح سے کوریج ملنی چاہے تھی اُس طرح سے نہیں مل پائی ہے اور خاص طور پر بین الاقوامی میڈیا پر تو اس کا چرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اس خطے کے کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے ہیں اور ہماری تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کھیلوں (سیف گیمز) سے سارے خطے کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔

اُن کے خیال میں بھی سیف گیمز کی میڈیا پر بھرپور کوریج نہ ہونے کی ایک وجہ ’ کرکٹ‘ بھی ہے۔

سیف گیمز کی اہمیت سے انکار تو نہیں لیکن ان کھیلوں کی ابھی تک مناسب کوریج کا آخر ذمہ دار کون ہے؟۔ میڈیا، پاک بھارت اچھے تعلقات یا ’دوستی‘ کرکٹ سیریز۔

ایک بات تو طے ہے کہ ہر بڑی چیز چھوٹی چیز پر حاوی ہوتی ہے اور شاید اس بار ایک مقبول کھیل کرکٹ نے بھی سیف گیمز کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد