جیت کو بلاوجہ مشکل بنایا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولرز کی جانب سے غیرضروری رنز دیئے جانے اور پھر اہم موقع پر وکٹیں کھونے سے پاکستان نے اپنی جیت کو بلاوجہ مشکل بنادیا ۔ جب معین خان اور عبدالرزاق نے بھرپور قوت کے اسٹروکس اور وکٹوں کے درمیان تیزی سے رنز بنانے کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ پاکستان کی4 و کٹ کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کی تو16 گیندیں باقی رہتی تھیں۔ اس سے قبل یاسرحمید 98 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ کراچی اور راولپنڈی کے برعکس پشاور میں تیسرا ون ڈے شروع ہوا تو بیٹسمینوں پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جو ارباب نیاز اسٹیڈیم کی وکٹ کو بھی اپنے لئے جنت سمجھ رہے تھے۔ لیکن ابتدا میں انہیں ایک ایک رن کے لئے تگ ودو کرنی پڑی اس کا سبب وکٹ کا مختلف روپ تھا جس پر پاکستانی بولرز کا جادو سرچڑھ کر بول رہا تھا۔ تاہم یوراج سنگھ کی 65 رنز کی عمدہ اننگز سے سنبھالا لینے کے بعد بھارت نے مقررہ 50 اوورز کا اختتام 9 وکٹوں کے نقصان پر244 رنز پر کیا۔ انضمام الحق نے سیریز میں تیسری مرتبہ ٹاس جیتا اور کراچی کی طرح پہلے اپنے بولرز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے وکٹ کو اپنے مطلب کی دیکھ کر اس پر بلند حوصلے کے ساتھ تیز گیندیں کیں۔ بھارت کو اسوقت شدید دھچکہ پہنچا جب شبیراحمد نے 6 وائیڈ اور 2 نوبال کی وجہ سے 14 گیندوں کے طویل اوور میں ماسٹر بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔ وائیڈ اور نوبال کے مسئلے سے دوچار ہونے کے باوجود شبیر احمد نے وریندر سہواگ اور وی وی ایس لکشمن کی وکٹیں بھی حاصل کرکے بھارتی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ اس وقت اس کا اسکور صرف 37 رنز تھا۔ ڈریوڈ اور گنگولی نے اس طوفان کو تھامتے ہوئے 68 رنز چوتھی وکٹ کی شراکت میں بنائے۔ گنگولی جارحانہ انداز میں پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 39 رنز بناکر عبدالرزاق کی سیریز میں پہلی وکٹ بنے ۔ ڈریوڈ اور محمد کیف ایک رن کے اضافے پر پویلین لوٹ گئے جس نے بھارت کے لئے بڑے اسکور تک پہنچنے کے امکانات کو مزید کم کردیا ۔ ڈریوڈ 33 رنز بناکر شعیب ملک کی گیند پر معین خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔ محمد کیف کو ایک رن پر عبدالرزاق نے ایل بی ڈبلیو کیا ۔ رمیش پوار کو شعیب ملک نے 14 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا۔ عرفان پٹھان 16 رنز بناکر شعیب اختر کی گیند پر بولڈ ہوئے بالاجی نے ایک بار پھر بلے پر مضبوط گرفت دکھائی اور وہ 21 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ محمد سمیع دس اوورز میں 71 رنز کے عوض ایک وکٹ کی کارکردگی کے ساتھ انتہائی مہنگے بولرثابت ہوئے۔ شبیراحمد رن اپ اور لائن کے مسئلے سے دوچار رہے لیکن تین وکٹیں اڑالے گئے، جو ان کی ون ڈے میں بہترین بولنگ بھی ہے ۔ عبدالرزاق اور شعیب ملک نےبھی عمدہ بولنگ کی اور وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ رنز پر بھی قابو کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ پاکستانی بولرز نے ابتدا میں جو دباؤ بھارتی بیٹسمینوں پر قائم کیا تھا وہ اس طرح زائل کردیا کہ بھارتی بیٹسمینوں نے آخری دس اوورز میں 74 رنز کا اضافہ کرڈالا۔ دوسو پینتالیس رنز کا ہدف حاصل کرنا پاکستان ٹیم کے لئے آسان نہ رہا ۔ شاہد آفریدی یوسف یوحنا یونس خان اور شعیب ملک کی شکل میں چار وکٹوں کے صرف 65 رنز پر گرنے کے نتیجے میں میچ کا پلڑا برابر ہوچلا تھا لیکن کپتان انضمام الحق اور یاسر حمید کی91 رنز کی شراکت سے جیت کا راستہ جو دھندلانے لگا تھا صاف ہونے لگا۔ لیکن ان دونوں کے آؤٹ ہونے پر منزل اب بھی 72 رنز کی دوری پر تھی جسے معین خان اور عبدالرزاق 75 گیندوں پر 74 رنز کی عمدہ شراکت سے قربت میں بدلنے میں کامیاب ہوگئے۔ عبدالرزاق اسوقت آخری اوورز کے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ناقابل شکست نصف سنچری سے ارباب نیاز اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کے دل موہ لئے ۔ معین خان نے پچھلے میچ میں صفر پر آؤٹ ہونے پر کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنے مخصوص انداز میں بیٹنگ کی ان کے بنائے گئے 22 رنز کی اہمیت کسی طور بھی کم نہ تھی ۔ پچھلے میچوں کی طرح پشاور میں بھی پاکستانی بولرز ایکسٹرا رنز کی شاہ خرچیوں سے نہ بچ سکے 33 ایکسٹرا رنز میں وائیڈ 23 اور 4 نوبال شامل تھیں۔ ایکسٹرا کو کنٹرول کرنے کے تمام تر دعوے ابھی تک غلط ثابت ہوئے ہیں۔ بھارتی بولرز میں عرفان پٹھان تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔اشیش نہرا کے ان فٹ ہوجانے کے نتیجے میں انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا اور انہیں جس موقع کا انتظار تھا وہ انہوں نے ضائع نہیں ہونے دیا۔ اشیش نہرا کے باہر ہوجانے ، ظہیرخان کے غیرموثر رہنے انیل کمبلے اور ہربھجن سنگھ کے نہ ہونے سے گنگولی کی پریشانی بے جا نہیں ہے اور وہ یہی دعا کررہے ہونگے کہ ٹیسٹ سیریز میں انہیں کمبلے اور اجیت اگرکار کی خدمات حاصل ہوجائیں تاکہ وہ پاکستانی بیٹنگ کا بھرپور مقابلہ کرسکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||