BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 March, 2004, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ ڈپلومیسی کا دور

عمران خان اور کپل دیو
عمران خان نے بھارت میں سیریز جیت کر اپنا ایک اور خواب پورا کیا
انیس سو چھیاسی۔ ستاسی کی سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم میں عمران خان کی واپسی سے ایک نیا حوصلہ پیدا ہوگیا تھا۔ اسی بلند حوصلے کے ساتھ یہ ٹیم بھارت یاترا پر روانہ ہوئی۔

پانچ ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز شطرنج کی بساط پر کمال مہارت سے چلنے والی چالوں کی طرح تھی جس میں دونوں کپتان عمران خان اور کپل دیو مہروں کو ہوشیاری سے استعمال کررہے تھے۔ لیکن بنگلور میں بھارتی ٹیم اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئی اور اسپنرز کی جنگ میں پاکستان نے میزبان ٹیم کی بساط لپیٹ دی۔

سیریز کے اس آخری ٹیسٹ کے لئے عمران خان نے عبدالقادر کی مایوس کن کارکردگی سے مایوس ہونے کے بعد لیفٹ آرم اسپنر اقبال قاسم پر اعتماد کرنے کا فیصلہ کیا۔

بنگلور کے چنا سوامی اسٹیڈیم کی خوفناک حد تک اسپن وکٹ پر ٹاس جیت کر عمران خان نے ٹاس جیت کر چوتھی اننگز میں بیٹنگ سے بچنے کے لئے پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی۔ لیکن منندر سنگھ نے پاکستانی بیٹسمینوں پر ایسا جادو کیا کہ وہ 116 رنز میں ہی قید کرلئے گئے۔ سلیم ملک 33 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھے۔ منندر سنگھ نے صرف 27 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔

عمران خان اور وسیم اکرم نے صرف سات اوورز کے بعد میدان اپنے اسپنرز اقبال قاسم اور توصیف احمد کے حوالے کردیا۔ ایک مرحلے پر بھارت کا اسکور 3 وکٹ پر 102 رنز تھا لیکن 43 رنز کے اضافے پر 7 وکٹیں گرگئیں ۔ آخری سات بیٹسمین ڈبل فگرز میں داخل نہ ہوسکے ۔ 145 رنز کی اننگز میں دلیپ وینگسارکر 50 رنز کے ساتھ سب سے قیمتی بیٹسمین ثابت ہوئے۔

اقبال قاسم نے 49 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ توصیف احمد نے دوسرے اینڈ سے ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے بقیہ 5 وکٹیں 54 رنز کے عوض اپنے قبضے میں کیں۔

پاکستان ٹیم نے 29 رنزکے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز میں 249 رنز بناکر بھارت کو میچ جیتنے کے لئے220 رنز کا ہدف دیا ۔ بیٹسمینوں کے لئے انتہائی مشکل وکٹ پر رمیض راجہ 47 ، سلیم یوسف 41 ناٹ آؤٹ، عمران خان 39 اور سلیم ملک نے 33 رنز کے ساتھ ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ منندر سنگھ نے تین وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا ۔ روی شاستری چار وکٹیں لے اڑے جبکہ شیولعل یادو کے حصے میں دو وکٹیں آئیں۔

محمد اظہرالدین
کلکتہ میں اظہرالدین نے پاکستان کے خلاف اپنی پہلی سنچری بنائی

بھارت نے فتح کی جانب پیش قدمی شروع کی تو 15 رنز پر وسیم اکرم نے سری کانت اور امرناتھ کو پویلین کا راستہ دکھادیا ۔ وینگسارکر نے 19 اور اظہرالدین نے 26 رنز بناکر گاوسکر کا ساتھ نبھایا جو خطرناک موڈ میں دکھائی دیتے تھے۔

اقبال قاسم اور توصیف احمد نے دیگر بیٹسمینوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا تھا اپنی ہی گیند پر اقبال قاسم نے اظہرالدین کا انتہائی شاندار کیچ لیا ۔ روی شاستری بھی اسی انداز میں اقبال قاسم کے ہاتھوں کاٹ اینڈ بولڈ ہوئے ۔ اقبال قاسم نے کپل دیو کے دفاع میں بھی شگاف ڈالا ۔ وینگسارکر کو توصیف نے بولڈ کیا۔ گاوسکر کا کیچ کلوز فیلڈر رضوان الزماں نے خوبصورتی سے لیا لیکن امپائرنے اسے مسترد کردیا تاہم رضوان ہی کے کیچ نے گاوسکر کی 96 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ یہ وکٹ اقبال قاسم کے حصے میں آئی ۔ راجربنی نے توصیف احمد کو چھکا لگایا لیکن توصیف احمد نے ہی انہیں قابوکر کے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 16 رنز کی جیت کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔ توصیف احمد نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے اپنا حق ادا کردیا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان ٹیم نے بھارتی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سے قبل کھیلے گئے چار ٹیسٹ میچوں میں بھی بلے اور گیند کے درمیان کشمکش دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔

مدراس میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 487 رنز بنائے ۔ شعیب محمد نے اپنے ساتویں ٹیسٹ میں پہلی سنچری اسکور کی۔ عمران خان نے کپتان کی اننگز کھیلتے ہوئے 135 رنز اسکور کئے۔ جاوید میانداد 6 رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے ۔ وسیم اکرم نے مخصوص جارحانہ انداز میں 62 رنز بنائے ۔ منندر سنگھ نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کئے۔ بھارت نے بھی 527 رنز 9 وکٹ کے اسکور کے ساتھ ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ سری کانت نے 123 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور سنیل گاوسکر کے ساتھ پہلی وکٹ کے لئے 200 رنز کی زبردست پارٹنرشپ قائم کی۔ گاوسکر کے قدم سنچری سے 9 رنز کی دوری پرآ کر رک گئے۔ وینگسارکر بھی 96 رنز پر نروس نائنٹیزکا شکار ہوئے۔ امرناتھ نے 89 رنز بنائے۔

سنیل گاوسکر
گاوسکر رنز کا انبار لگاتے رہے

پاکستان نے دوسری اننگز میں تین وکٹوں پر 182 رنز بنائے تھے جس میں رضوان الزماں اور جاوید میانداد کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔

سنیل گاوسکر کی غیرموجودگی میں جنہوں نے کلکتہ کے تماشائیوں کے سامنے کھیلنے سے انکار کردیا تھا بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 403 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ محمد اظہرالدین نے پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی انہوں نے 141 رنز بنائے ۔ ارون لعل کپل دیو اور راجربنی نے بھی نصف سنچریاں بنائیں۔ وسیم اکرم نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں راجر بنی کی 56 رنز کے عوض 6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کی اننگز صرف 229 رنز پر تمام کردی ۔ رمیض راجہ 69 اور رضوان الزماں 60 رنز کے ساتھ ہی کچھ کر دکھا پائے ۔بھارت نے ارون لعل کے 70 رنز کی بدولت دوسری اننگز 3 وکٹوں پر 181 رنز بناکر ڈیکلیئر کردی۔ پاکستان نے 5 وکٹوں پر 179 رنز بنائے تھے۔ جاوید میانداد 63 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

جے پور ٹیسٹ میں بھی رنز کا سیلاب جاری رہا ۔ بھارت نے 465 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر پہلی اننگز ڈیکلیئر کی جس میں اظہرالدین اور روی شاستری کی سنچریاں شامل تھیں ۔ گاوسکر صفر پر عمران خان کی گیند پر میانداد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ پاکستان کی پہلی اننگز 341 رنز تک پہنچی جس میں رمیض راجہ کی سنچری اور میانداد اور عمران خان کی نصف سنچریوں شامل تھیں۔

بھارت نے دوسری اننگز میں سری کانت کی نصف سنچری کی مدد سے 114 رنز بنائے تھے اور اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ اس ٹیسٹ کی خاص بات کرکٹ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر جنرل ضیاء الحق کا اچانک بھارت پہنچ کر سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں یہ میچ دیکھنا تھا۔

احمد آباد میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں پاکستان سے طلب کئے جانے والے آل راؤنڈر اعجاز فقیہہ نے شاندار سنچری بنا ڈالی جس نے پاکستان کا اسکور 395 رنز تک پہنچادیا۔ شیولعل یادو نے چار اور کپل دیو نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ وسیم اکرم کی چار وکٹوں کی مؤثر کارروائی نے بھارت کو 323 رنز سے آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ گاوسکر نے 63 اور کپل دیو نے 50 رنز بنائے لیکن سب سے عمدہ اننگز وینگسارکر نے کھیلی جنہوں نے 109 رنز اسکور کئے ۔ اس میچ میں گاوسکر 10 ہزار ٹیسٹ رنز کے سنگ میل تک پہنچے ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد