’اچھی یادیں لے کر جانا چاہتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کپتان سورو گنگولی نے کہا ہے کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ آئے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس دورے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور پاکستان سے اچھی یادیں لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان آکر خوشی ہوئی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان چودہ برس بعد کرکٹ کے رابطے بحال ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی کا دورہ ہے اور وہ وزیراعظم واجپئی کے نیک خواہشات لے کر آئے ہیں۔ منگل کو پریس کانفرنس سے حطاب کرتے ہوئے سورو گنگولی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں سعیدانور، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے تجربہ کار کھلاڑی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ گنگولی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ آسٹریلیا میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ان کے خیال میں صرف آخری دو ون ڈے ان کے لئے اچھے نہیں رہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ انیل کمبلے ٹیسٹ سیریز تک فٹ ہوجائیں گے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سے یہ سوال کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل تعطل کا الزام کسے دینگے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ تاہم بھارتی ٹیم کے منیجر رتناکر شیٹھی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے کھلاڑیوں کی سلامتی کی یقین دہانی کے بعد ہی ٹیم یہاں آئی ہے۔ گنگولی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر سے نمٹنے کے لئے ان کے پاس کیا حکمت عملی ہے تو پریس کانفرنس میں غیرمعمولی سنجیدگی اختیار کرنے والے بھارتی کپتان نے ازراہ تفنن کہا کہ راولپنڈی ایکسپریس کی زنجیر آدھے راستے میں کھینچ لی جائے۔ جس پر زبردست قہقہہ بلند ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وہ نارمل انداز میں کھیلیں گے سیریز کی فیورٹ ٹیم کے بارے میں گنگولی نے کہا کہ وہ اس پر یقین نہیں رکھتے جو بھی ٹیم اچھا کھیلتی ہے میدان اسی کے ہاتھ رہتا ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈر کوچ جان رائٹ کا کہنا تھا کہ ملک اور ملک سے باہر بھارتی ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||