’پاکستان جیتنے کے لیے جا رہے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو نواسی میں پاکستان کے دورے سے کرکٹ کریئر آغاز کرنے والے سچن تندولکر ایک بار پھر پاکستان جانے کے مشتاق ہیں۔ پہلی بار جب انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو ان کی عمر صرف سولہ سال تھی لیکن اب جب وہ پاکستان جانے والے ہیں تو وہ دنیا کے ایک مستند بیٹسمین بن چکے ہیں۔ انہوں ان قیاس آرائیوں کو بلاوجہ قرار دیا کہ یہ سریز دراصل ان کے اور پاکستان کے تیز رفتار بالر شعیب اختر کے درمیان ایک ’ڈول‘ یا ایک پر ایک کی لڑائی ہے۔ سچن نے کہا کہ اس سیریز میں دو ملک ایک دوسرے کے خلاف کھیل رہے ہیں نا کہ دو فرد۔ اس لیے ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں اور ہم کریں گے کیونکہ ’ہم جیتنے کے لیے جا رہے ہیں۔‘
سچن کے آغاز کی اس سیریز کے پندرہ سال بعد بھارتی ٹیم اب ایک بار پھر پاکستان جا رہی ہے اور دورے کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ میچ اور تین ٹیسٹ ہونگے۔ سچن نے پاکستان کے اس دورے کے بعد مدراس میں اپنی پہلی سنچری بنائی اور اس کے بعد سے اب تک اپنے سینکڑوں کی تعداد بتیس اور مجموعی طور پر نو ہزار دو سو پینسٹھ رنز بنا چکے ہیں۔ تندولکر کو بھارت کے مایہ ناز اوپنر سنیل گواسکر کا چونتیس سنچریوں کا ریکارڈ برابر کرنے کے لیے اب صرف دو سنچریوں کی مزید ضرورت ہے۔ آئندہ سیریز میں گہری دلچسپی کے باوجود تندولکر نے شائقین اور ذرایع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ متوازن ذہن سے کام لیں اور کسی بھی طرح کی دیوانگی سے گریز کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں سبھی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، صرف کھلاڑیوں ہی کو نہیں، شائقین کو، ذرائع ابلاغ کو اور ان تمام لوگوں کو جو اس بارے میں بات کرنا چاہتے ہوں انہیں پوری طرح سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||