پشارو اور کراچی میں میچ مشکوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کےلیے آئے ہوئے تین رکنی وفد نے اتوار کو لاہور میں اپنے دورے کے اختتام پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہر یار خان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کراچی اور پشاور میں میچز کے انعقاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہر یار خان نے بتایا کہ اس سیکیورٹی وفد کے یہ تحفظات ان شہروں میں امن و امان کے حوالے سے نہیں بلکہ بھارتی ٹیم کے وہاں زیادہ دیر قیام کے ضمن میں ہیں۔ شہر یار خان نے بتایا کہ اس وفد کا کہنا ہے کہ ان دو شہروں میں ٹیم کے زیادہ دنوں تک ٹھہرنے سے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہوئے اس وفد کے ایک رکن پروفیسر ایس کے شیٹی سے دریافت کیا کہ کیا وہ سیکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے اور اپنی تمام رپورٹ بھارتی کرکٹ بورڈ کو پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو اس سیریز کا جو شیڈیول بھجوایا تھا اس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا ایک ایک میچ کراچی پشاور اور لاہور میں کروانا چاھتا تھا۔ لیکن اب جبکہ بھارتی وفد نے کراچی اور پشاور میں ٹیم کے زیادہ دن ٹھہرنے پر تشویش ظاہر کی ہے تو کیا اب کراچی اور پشاور میں ٹیسٹ میچوں کا انعقاد مشکوک ہو گیا ہے؟ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہر یار خان کا کہنا تھا کہ ابھی وہ اسکے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ ان کی کوشش ہو گی کہ تمام معاملات گفت و شنید کے بعد طے کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور پشاور میں میچز ضرور ہوں گے لیکن وہ ٹیسٹ میچز ہوں یا صرف ایک روزہ ،یہ کچھ روز تک طے ہو جائے گا جب یہ وفد واپس جا کر اپنے بورڈ کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے آنے والا اس وفد کے اراکین جن میں ایس کے شیٹی، یشوردن آزاد اور امرت ماتھر شامل تھے پاکستان کے تمام بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیموں کا جائزہ لینے کے بعد کل یعنی سولہ فروری کو بھارت واپس جا رہا ہے جس کے بعد وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔اور پھر ہی کراچی اور پشاور میں میچوں کے انعقاد کا فیصلہ ہو گا۔ اگر بھارتی بورڈ کا فیصلہ ان دونوں شہروں کے خلاف ہوا تو ان شہروں کے لاکھوں شائقین کرکٹ ایک بار پھر کم از کم ٹیسٹ کرکٹ سے محضوظ ہونے سے محروم ہو رہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||