زمبابوے سارے میچ ہار گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں سہ ملکی سیریز کے آخری لیگ میچ میں زمبابوے بھارت کے خلاف چار وکٹ سے ہار گیا ہے۔ پرتھ میں کھیلے گئے اس میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنےکا فیصلہ کیا لیکن کپتان ہیتھ سٹریک کا یہ فیصلہ سود مند ثابت نہ ہوا اور زمبابوے کے بلے باز متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ زمبابوے کی پوری ٹیم چونتیس عشاریہ چار اوور میں صرف ایک سو پینتس رن بنا سکی۔ بھارت کے نوجوان تیز رفتار بالر عرفان پٹھان نے چوبیس رن پر چار وکٹ حاصل کیں جبکہ امیت بھنڈاری نے اکتیس رن دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بھارت ٹیم نے لاپرواہی سے کھیلنے کے باعث میچ کے ابتدائی اوورز میں ہی چند وکٹ کھو دیئے اور یہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی تھی اگر زمبابوے کے کھلاڑی دو کیچ پکڑنے میں کامیاب ہو جاتے اور وائڈ کے چودہ رن بھی نہ دیتے۔ بھارت کے ہیمانگ بدانی نے چونتیس رن بنائے اور وہ آؤٹ نہیں ہوئے۔ ہیمانگ بدانی کا سکور آٹھ رن تھا جب زمبابوے کے کھلاڑیوں نے ان کا کیچ چھوڑ دیا۔ اسی طرح بھارت کے وی وی ایس لکشمن کا بھی کیچ اس وقت چھوڑا گیا جب انہوں نے پچیس رن بنائے تھے۔ البتہ قسمت نے لکشمن کا زیادہ ساتھ نہیں دیا اور وہ بتیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بھارت کی اننگز کا آغاز ہی مایوس کن رہا کیونکہ تیندولکر تین رن بنا کر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ وریندر سہواگ نے بائیس گیندوں میں تئیس رن بنائے اور وہ اینڈی بلیگنوٹ کی وائڈ بول پر تھرڈ مین پر کھڑے سٹوارٹ میٹسیکینیری کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ کپتان راہول ڈراویڈ صرف دس رن بنا سکے اور یوراج سنگھ چار رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت بھارت نے پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر ایک سو پانچ رن بنائے تھے۔ اس کے بعد بدانی نے راہول گواسکر کو رن آؤٹ کر دیا۔ زمبابوے نے اس سیریز میں اب تک سات میچ کھیلے ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں کی۔ جب کہ بھارت سات میں سے چار میچ جیت چکا ہے اور آسٹریلیا آٹھ کھیل کر صرف ایک ہارا ہے۔ زمبابوے کے کپتان ہیتھ سٹریک کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مقابلوں کے دوران وہ ہر بار جیت کے بہت قریب تک پہنچے مگر جیت نہیں سکے۔ میچ سے پہلے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارت سے اس مقابلے ان کے تیز رفتار بالر اینڈی بلگناٹ اچھی کاردگی کا مظاہرہ کریں گے اور وہ یہ کر دکھانے کے اہل بھی ہیں۔ بلاشبہ بلگناٹ ایک سو چالیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بال کراسکتے ہیں لیکن خود ہیتھ نے اب تک زمبابوے کی جانب سے سب سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہیتھ نے اکیس کے اوسط سے اب تک چودہ وکٹیں لی ہیں اور دو سو پانچ رنز سکور کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||