ہندوستان کا برق رفتار پٹھان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں کھیلے جانے والے وی بی سیریز کے ایک میچ میں ہندوستان نے زمبابوے کو چار وکٹوں سے شکست دیدی۔ اس میچ میں ہندوستانی فتح کو یقینی بنانے والے بالر انیس سالہ عرفان پٹھان تھے۔ چوبیس رنز کے عوض چار وکٹ لینے پر عرفان پٹھان کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اتنی کم مدت میں عرفان پٹھان نے بین الاقوامی سطح کے کامیاب بالر کی حیثیت سے جس طرح اپنی پہچان بنائی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ گزشتہ سال ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے آغاز سے قبل ہندوستانی ٹیم کے فاسٹ بالر ظہیر خان کے زخمی ہونے کے بعد کپتان سورو گانگولی کے پاس عرفان پٹھان کو ٹیم میں شامل کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہ تھا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کے بارے میں گانگولی نے کہا تھا: ’حالیہ مہینوں میں عرفان نے فرسٹ کلاس میچیز میں اپنی کارکردگی سے بے حد متاثر کیا ہے۔ اس کی بالنگ میں ظہیر یا آشیش نہرا جیسی تیز رفتاری تو نہیں ہے لیکن اسے گیند کو دونوں ہی جانب سوئنگ کرنے میں بلا کی مہارت حاصل ہے، اپنی خطرناک سوئنگ کا مظاہرہ تو عرفان نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ہی دے دیا تھا جب ان کی ایک اِن سوئنگ یارکر کو سمجھنے میں آسٹریلوی کپتان سٹیو وا جیسے آزمودہ بیٹسمین بھی غلطی کر بیٹھے اور انہیں اپنی وکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے بعد اگرچہ ٹیسٹ میچوں میں عرفان نے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی ہے لیکن سہ فریقی وی بی سیریز کے تمام ون ڈے میچوں میں اس نوجوان بالر نے اپنی کاکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ اس سیریز میں عرفان نے اپنی سوئنگ کو مزید تباہ کن تو بنایا ہی ہے، ان کی بالنگ میں اب غضب کی تیز رفتاری بھی آ گئی ہے۔ عرفان کی بالنگ میں متواتر نکھار کے پیچھے پاکستان کے سابق کرکٹر اور ون ڈے میچوں میں سب سے زیادہ وکٹس لینے والے بالر وسیم اکرم کی کوچنگ کو نمایاں دخل ہے۔ ان کے پہلے ٹیسٹ میں جس نے بھی عرفان کو بالنگ کرتے دیکھا، اس کے لئے یہ کہنا زیادہ مشکل نہیں تھا کہ اس کھلاڑی کی بالنگ وسیم اکرم سے زبردست متاثر ہے۔ رن اپ، ایکشن اور بال کی ڈیلیوری گو یا کہ عرفان کی بالنگ کا ہر پہلو وسیم اکرم سے متاثر تھا۔ پھر اسٹریلیا کی رواں سیریز کے دوران وسیم نے انہیں چند انتہائی مفید مشورے دئے۔ مثال کے طور پر کیریئر کے آغاز میں عرفان رن اپ کے وقت بال کو بائیں ہاتھ میں رکھتے تھے اور پھر بائیں ہاتھ سے ہی بال پھینکتے تھے۔ وسیم کے مشورے کے بعد انہوں نے بال کو آخری لمحے تک دائیں ہاتھ میں پوشیدہ رکھنا شروع کیا۔ وسیم کے مطابق ایسا کرنے سے مخالف بیٹسمین بال کی سِیم دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے اور نتیجتاً اس کے لئے گیند کی سوئنگ کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ عرفان کا تعلق ہندوستان کی ریاست گجرات سے ہے اور وہ رنجی ٹرافی میں بڑودہ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ظہیر حان بھی بڑودہ کے لیے کھیلتے ہیں۔ انہیں پہلی مرتبہ شہرت گزشتہ سال پاکستان میں کھیلے گئے ایک میچ میں بنگلہ دیش اے کے خلاف ملی جب انہوں نے صرف سولہ رنز کے عوض نو وکٹ حاصل کئے۔ عرفان کے والد بڑودہ کی ایک مقامی مسجد میں مؤذن ہیں اور ہندوستانی ٹیم میں شامل ہونے سے قبل انہوں نے کسمپرسی کی زندگی گزاری۔ عرفان خود بھی باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||