BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2004, 01:35 GMT 06:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میانداد اور ہارون رشید پر اعتماد

وقار یونس اور راشد لطیف کے ٹیم میں شامل کرنے کا امکان
وقار یونس اور راشد لطیف کے ٹیم میں شامل کرنے کا امکان

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بحیثیت کپتان انضمام الحق پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بعد کوچ اور منیجر کے عہدوں پر بھی فی الحال تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جاوید میانداد اور ہارون رشید معمول کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک کپتان اور ٹیم منیجمنٹ کا تعلق ہے دونوں کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ کوچ اور منیجر کرکٹ بورڈ کے باقاعدہ کنٹریکٹ پر ہوتے ہیں جبکہ کپتان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔

شہریار خان کے مطابق انہیں جاوید میانداد اورہارون رشید کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ وقار یونس اور راشد لطیف کے انٹرنیشنل کیریئر ختم نہیں ہوئے ہیں اور انہوں نے ان دونوں کرکٹرز سے ذاتی طور پربات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ کھیلنا چاہیں تو کھیل سکتے ہیں۔ کرکٹ ان کا ذریعہ معاش ہے اور کسی کرکٹر کو اس کے اس ذریعہ معاش سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

شہریار خان نے کہا کہ سابق کرکٹ بورڈ نے انہیں باہر بٹھانے کی بات کرکے غلطی کی تھی۔ بھارت کے خلاف سیریز میں وقار یونس اور راشد لطیف کے سلیکشن پر اسی طرح غور ہوگا جس طرح کسی دوسرے کرکٹر کے انتخاب پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وسیم باری کو دوبارہ چیف سلیکٹر بنائے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں ان کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی نے سوائے اظہر محمود کے پوری ٹیم درست منتخب کی تھی۔ بدقسمتی سے کھلاڑی اپنی تمام ترصلاحیتوں کا مظاہرہ نہ کرسکے جس کے قصور وار وسیم باری نہیں ہیں۔

عامرسہیل کو چیف سلیکٹر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بارے میں شہریار خان کہتے ہیں کہ نئی ایڈمنسٹریشن میں بنیادی تبدیلیاں آتی ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ عامرسہیل کو ہٹانے کی وجہ جونیئر ٹیم کی سلیکشن یا کمنٹری نہیں ہے۔ ان کی اطلاع کے مطابق بھارت کے خلاف سیریز میں عامرسہیل اور رمیض راجہ کمنٹری نہیں کررہے ہیں۔

ٹی وی نشریاتی حقوق کے معاملے پر شہریار خان کا کہنا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے غیرجانبدار قانونی ماہرین سے بھی ٹین اسپورٹس سے کئے گئے معاہدے کی بابت رائے لی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر درست ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے باہر نکلنا چاہے تو اسے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ جس وقت ٹین اسپورٹس سے معاہدہ ہوا اسوقت بھارت کے خلاف سیریز کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ اب جب بھارت کے خلاف سیریز شیڈول ہوگئی تو ہر کمپنی اور ادارے کی آنکھوں میں ڈالرز چمکنے لگے ہیں۔ پاک بھارت سیریز کی ٹائٹل اسپانسرشپ کے بارے میں شہریار خان کا کہنا ہے کہ پیپسی نے اس بار ے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن قواعد و ضوابط کے تحت وہ پہلے ہی سیزن کی ایک سیریز کی اسپانسرشپ لے چکی ہے لہذا کئی روز کی بات چیت کے بعد اسے معاوضہ بطور تلافی دے دیا گیا ہے اور سیریز کی ٹائٹل اسپانسرشپ کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے متعدد کمپنیوں جو اس میں دلچسپی رکھتی ہیں مطلع کردیا ہے اور جو بھی بڑی بولی دے گا اسے اسپانسرشپ دے دی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد