| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گواسکر کا کرکٹرسُپوت
بھارت کے مشہور بیٹسمین سنیل گواسکر کے بیٹے روہن گواسکر نے بین الاقوامی کرکٹ کا اپنا پہلا میچ اتوار اٹھارہ جنوری کو آسٹریلیا کے شہر برسبین میں کھیلا۔ اپنے پہلے ایک روزہ میچ میں بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے آل راؤنڈر نے اپنے ہی گیند پر اینڈریو سِمنڈز کا شاندار کیچ لیا۔
ستائیس سالہ روہن گواسکر اکاسی فرسٹ کلاس میچ کھیل کر چار ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں تاہم انہوں کبھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ سنیل گواسکر جتنی کرکٹ کی مشہور ہستی کا بیٹا ہونا اور پھر خود کرکلار ہونا کوئی آسان بات نہیں لیکن روہن گواسکر کہتے ہیں ان کو اس بات کا فخر ہے کہ سنیل گواسکر ان کے والد ہیں۔ ’مجھے روزانہ صبح اٹھ کر ان کامیابیوں پر فخر محوسوس ہوتا ہے۔ بھارت میں سب کو اب اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ میری اپنی ایک شخصت ہے۔ میں پچھلے سات برس سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا آ رہا ہوں۔‘
روہن گواسکر کو ایک روزہ ٹیم میں اس وقت شامل کیا گیا جب محمد کیف کو انگوٹھے پر چوٹ کی وجہ سے شامل نہ کیا جا سکا۔ روہن نے برسبین میچ میں اس عمدہ کیچ سے سب کو حیران کر دیا۔ سنیل گواسکر کا شمار دنیا کے مشہور ترین بیٹسمینوں میں کیا جاتا ہے۔عالمی کرکٹ میں ان کی سب سے زیادہ یعنی چونتیش ٹیسسٹ سنچریاں ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ رنز حاسل کرنے والے بلے بازوں کی فہرست میں وہ ایلن باڈر اور سٹیو وا کے بعد تسرے نمبر پر ہیں۔ ستائیس سالہ روہن گواسکر بتاتے ہیں کہ ان کا نام ویسٹ انڈیز کے مشہور بیٹسمین روہن کنہوائی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ روہن کے کرکٹ کا انداز ان کے والد سے بہت مختلف ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوراو گنگولی کہتے ہیں کہ روہن کا انداز ان کے والد سے زیادہ جارحانہ ہے لیکن یہ شاید اس لیے کہ یہ ایک روزہ کرکٹ کی ضرورت ہے۔ گنگولی روہن کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں اور وہ ایک مشہور باپ کے بیٹے ہونے کے باوجود اس نفسیاتی دباؤ سے نہیں گھبراتے بلکہ کرکٹ کھیلنے کا پورا مزا لیتے ہیں۔ روہن گواسکر کئی برس سے بھارت کی ’اے ٹیم‘ میں شامل ہیں لیکن اب تک انہوں نے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||