| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقربا پروری میرٹ کی راہ میں رکاوٹ
ایک ایسے ملک میں جہاں ہرسال کرکٹ سیزن اس بحث کے ساتھ شروع ہوتا ہو کہ اس کے لئے کونسا فارمیٹ مناسب ہوگا اگر وہاں جونیئر کرکٹ منظم نہیں ہوسکی تو کوئی حیران کن نات نہیں۔ نہ ہی اس تنازعہ پر حیرت کرنی چاہیئے جو گزشتہ دنوں پاکستان کی سترہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیم کے سلیکشن کے موقع پر اقرباپروری کی متعدد مثالوں کی صورت میں سامنے آیا۔ اس پر حال ہی میں پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور سنبھالنے والے انہتر سالہ چیئرمین شہریارخان نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے قومی سلیکشن کمیٹی کی منتخب کردہ ٹیم ہی معطل کردی۔ انہوں نے ایک غیرجانبدار کمیٹی کا تقرر کرتے ہوئے ٹیم اس کے ذریعے منتخب کرائی۔ بادی النظر میں شہریارخان کا یہ فیصلہ ان کی اصول پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن کیا اس غیرجانبدار کمیٹی کی تقرری سے جسے مبصرین اور عام شائقین نے عامرسہیل کی سربراہی میں قائم قومی سلیکشن کمیٹی پر عدم اعتماد سے تعبیر کیا وہ مقاصد حاصل ہوسکے جن کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔ مبصرین اور شائقین کا جواب اس بارے میں نفی میں ہے۔ وہ اس ضمن میں پاکستان انڈر 17 کرکٹ ٹیم کے سلیکشن میں تنازعہ کا سبب بننے والے سلیکٹر کے آف اسپنر بیٹے فہد زمان کی بدستور ٹیم میں موجودگی کی مثال دیتے ہیں، جس کے لئے شہریار خان کو ٹیم معطل کرنی پڑی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ سلیکٹر فرخ زمان کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے سلیکشن کے عمل سے دور رہے اور سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ سے بھی اٹھ کر چلے گئے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فہد زمان نے میرٹ پر ٹیم میں جگہ بنائی لیکن رمیض راجہ یا خود فرخ زمان کیا اس سوال کا تسلی بخش جواب دے سکیں گے کہ فہد زمان کے سلیکٹر سے تعلق کو سب کی نظروں سے پہلے کیوں چھپایاگیا؟ اور جب میڈیا میں ٹیم سلیکشن میں مبینہ گڑبڑ پر شور اٹھا تو یہ بات ظاہر کی گئی۔ لیکن فرخ زمان میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے بارے میں پہلے ہی بتاتے۔ پاکستان کرکٹ میں صرف ایک مثال ایسی موجود ہے کہ ماجد خان کے سلیکشن کے وقت ان کے والد ڈاکٹر جہانگیرخان سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہوگئے تھے۔ تاہم جب ماجد خان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو تھے تو اس دور میں ان کے بیٹے بازیدخان پاکستان جونیئر ٹیم کے کپتان اپنے کھیل کی خصوصیت کے بجائے انگریزی زبان پر واقفیت کی وجہ سے بنائے گئے تھے۔جبکہ پرفارمنس کے لحاظ سے متعدد دوسرے کرکٹرز ان کے مقابلے میں قیادت کے زیادہ اہل تھے۔ ایسی دوسری مثال پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کے بیٹوں طلال ضیاء اور جنید ضیاء کی ہے۔ طلال ضیاء کی پاکستان جونیئرٹیم کے ساتھ کرکٹ بہت مختصر رہی البتہ جنیدضیاء اپنے سلیکشن کے سلسلے میں شہ سرخیوں میں رہے ان کا سلیکشن اس اعتبار سے متنازعہ رہا کہ عامرسہیل اور ان کے ساتھی سلیکٹرز نے انہیں پاکستان کرکٹ اکیڈمی کے دورہ جنوبی افریقہ کی پرفارمنس پر پاکستان کرکٹ ٹیم میں منتخب کیا۔ اس دورے میں جنید ضیا سے اچھی کارکردگی فہد مسعود اور عبدالرؤف کی رہی تھی لیکن قسمت کی دیوی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے بیٹے پر مہربان رہی۔ اس ضمن میں دو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن سے ان شکوک وشبہات کو تقویت ملی کہ عامرسہیل غیرضروری طور پر جنید ضیاء کو مواقع دے رہے ہیں۔ پہلے واقعہ کا تعلق عامرسہیل کی جانب سے جنید ضیاء کو کپتان مقرر کرنے کے اعلان سے ہے جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔ یہ فیصلہ چوبیس گھنٹے میں تبدیل کردیا گیاجبکہ دوسری مرتبہ انہیں عمدہ پرفارمنس دکھانے والے عمرگل کی جگہ نیوزی لینڈ کے دورے کے لئے پاکستان ٹیم میں حیران کن طور پر شامل کیا گیا۔ لیکن شدید ردعمل کے نتیجے میں یہ جواز پیش کرتے ہوئے کہ جنید ضیاء کے امتحانات سر پر ہیں انہیں نیوزی لینڈ کے دورے سے ہٹاتے ہوئے بھارت جانے والی پاکستان اے ٹیم میں شامل کرلیاگیا۔ ان واقعات کے تناظر میں اگر جونیئر کرکٹ کے سلیکشن میں اقرباپروری کے واقعات سامنے آئے ہیں تو یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ یہ فہد زمان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ٹیم میں اس صورت میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکے جب ایک دوسرا اسپنر ہدایت اللہ کلائی کی ہڈی کے ٹیسٹ میں 17 سال سے زائد عمر کا پایاگیا۔ غیرجانبدار کمیٹی نے اپنی ٹیم کے ابتدائی 14 کھلاڑیوں میں فہد زمان کو شامل نہیں کیا تھا۔ والد پر مشتمل سلیکشن کمیٹی نے اگر بیٹے کو میرٹ پر منتخب کیا تھا تو وہ میرٹ غیرجانبدار کمیٹی سے کیوں چھپا رہا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی پرفارمنس پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کی واحد کنجی نہیں ہے۔ یہ سلیکٹر پر منحصر ہے کہ وہ کھلاڑی میں چھپا ٹیلنٹ تلاش کرلے اس ضمن میں وہ وہ مصباح الحق اور منصور اختر کی مثالیں دیتے ہیں کہ اگرصرف فرسٹ کلاس کرکٹ کی پرفارمنس پر سلیکشن ہوتو مصباح الحق ہر ٹیم میں شامل ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو منصوراختر میں ٹیلنٹ نظرآیا اور وہ انہیں مستقل مواقع دیتے رہے وہ ان کی اپنی سوچ تھی۔ جہان تک فرسٹ کلاس کرکٹ کی پرفارمنس کے بارے میں رمیض راجہ کے خیالات کا تعلق ہے تو ان سے اس لئے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ سلیکشن کا عمل ایک منظم طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے۔ بہت کم ایسے کھلاڑی ہونگے جو جونیئر کرکٹ کی چونکا دینے والی پرفارمنس پر پاکستان ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے یہ واویلا بھی پاکستان میں ہی سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان کا فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ صحیع خطوط پر استوار نہیں ہے۔ اس کے معیار اور انٹرنیشنل معیار میں بہت فرق ہے تو اس کی بھی وجہ صرف یہی ہے کہ ہر سال نت نئے تجربات کے نام پر فرسٹ کلاس کرکٹ ڈھانچے کو مستحکم نہیں ہونے دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان کو ورلڈ کلاس کرکٹرز فراہم کررہا ہے۔ اسی ڈھانچے سے نکل کر پاکستان ٹیم میں شامل ہونے والے کرکٹرز نے عمران خان کو ورلڈ کپ جتوادیا اور وہ جس کاؤنٹی کرکٹ کی مثالیں دیتے ہیں وہ انگلینڈ کو ورلڈ کلاس کھلاڑی تواتر کے ساتھ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ بلکہ ہمیشہ سے وہ غیر برطانوی کرکٹرز پر اپنی کامیابی کے لئے نگاہیں جمائے بیٹھی رہتی ہے۔ پاکستان ٹیم میں شامل ہونے کا پہلا حق اس کرکٹر کا ہے جو متواتر اچھی کارکردگی دکھارہا ہو۔ اس کرکٹر کا نہیں جو رشتے داری کی بیساکھیوں پر چلتا ہوا مقابلۃ اس سے اچھی پرفارمنس دکھانے والے کرکٹرز پر حاوی ہوکر ٹیم میں شامل ہوجاتا ہو۔ اس کے لئے جوابدہی کا ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر کئے جانے والے سلیکشن کی گرفت ہوسکے۔ نوجوان اور نوعمر کھلاڑی زیادہ حساس ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا زیادہ اثر قبول کرلیتے ہیں۔ پاکستان میں جونیئر کرکٹ اگر منظم نہیں ہوسکی ہے تو اس کا ذمہ دار بھی پاکستان کرکٹ بورڈ ہے پاکستان میں ہرسال انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ ایسوسی ایشنز کی سطح پر منعقد ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ باصلاحیت کرکٹرز کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ جب پاکستان انڈر 19 ٹیم کے انتخاب کا وقت آتا ہے تو ملکی سطح پر غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فراز پٹیل اور متعدد باصلاحیت کرکٹرز پر سلیکٹرز کی نگاہ نہیں پڑتی اور وہ پاکستان کی نمائندگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب انڈر 17 کا سلیکشن ہوتا ہے تو وقاص ہارون کی شاندار کارکردگی سلیکٹرز کو نظر نہیں آتی۔ جبکہ جعلی عمر کی اسناد والے اوور ایج کرکٹرز کے مزے آجاتے ہیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کلائی کے ٹیسٹ کا طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی بالکل صحیح عمر بتانے سے قاصر ہے۔ اگر فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں ہرسال تجربات کرنے اور خواتین کرکٹ اور سابق کرکٹ پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر توجہ دیتے ہوئے انڈر 17 اور انڈر 15 کرکٹ کو صحیح خطوط پر منظم کرلیا جاتا تو آج انڈر 19 ٹیم کا سلیکشن آئی سی سی کی مقررہ کردہ تاریخ کے ایک روز بعد ہونے کی نوبت نہ آتی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے ٹیم کے نام بھیجنے کی تاریخ میں تین روز کی توسیع کرنے کی درخواست نہ کرنی پڑتی۔ نہ جانے کب تک سسٹم کے نام پر ہونے والا بگاڑ میرٹ کی راہ میں رکاوٹ بنتا رہے گااور معاملات کسی طریقہ کار کے تحت نمٹانے کے بجائے شہریارخان کے ہنگامی فیصلوں کے محتاج رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||