| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے رنزوں کا ڈھیر لگادیا
ٹنڈلکر اور لکشمن کی شاندار سنچریوں کی بدولت بھارت نے آسٹریلیا کے خلاف چار سو پچانوے رنز بنالئے ہیں اور اس کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ ہیں۔ میچ کے دوسرے دن چائے کے وقفے پر سچن ایک سو انچاس جبکہ لکشمن ایک سو انسٹھ رنز پر کھیل رہے ہیں۔ یہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹنڈلکر کی پہلے سنچری ہے۔ انہوں نے یہ سنچری ایک ایسے موقع پر بنائی ہے جب ہندوستان میں کرکٹ کے مبصرین ان کی فارم کے بارے میں طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے۔ ہندوستان کے مایہ ناز بیٹسمین سچن ٹنڈلکر نے ہفتے کے روز جب ایک سو رنز کا ہدف عبور کیا تو وہ کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلوی کپتان سٹیووا کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔ دونوں نے اب تک بتیس بتیس سنچریاں بنائی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سٹیووا نے بتیس سنچریاں ایک سو سڑسٹھ ٹیسٹ میچ کھیل پر بنائی ہیں جبکہ ٹنڈلکر کا یہ صرف ایک سو گیارواں ٹیسٹ میچ ہے۔ بھارتی بیٹسمین سنیل گواسکر سینچریوں کی تعداد کے لحاظ سے اب بھی سر فہرست ہیں۔ انہوں نے ایک سو پچیس میچ کھیل کر چونتیس سنچریاں بنائیں۔ ہفتے کے روز بیٹینگ کے دوران سچن ٹنڈلکر اور وی وی ایس لکشمن نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں تین سو ایک بنا کر بھارت کی طرف سے کسی بھی ملک کے خلاف چوتھی وکٹ کی شراکت میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جمعہ کے روز بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا میچ کے پہلے روز تین وکٹوں کے نقصان پر دو سو چوراسی رنز بنائے تھی۔ اوپنر وریندر سیہواگ نے اس سیریز میں ایک دفعہ پھر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہتر رن بنائے ہیں جب کہ ان کے ساتھ آکاش چوپڑا پینتالیس رن بنا کر آوٹ ہوئے۔ چائے کے وقفے تک راہول ڈراوڈ نے نو اور سچن تندولکر نے دس رنز بنائے تھے۔ چائے کے وقفے کے بعد راہول ڈراوڈ بھی گلیسپی کی گیند پر اڑتیس رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔ دن کے اختتام پر تندولکر نے تہتر اور وی وی ایس لکشمن انتیس رنز بنائے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||