| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار تین اور پاکستانی کرکٹ
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے سن دو ہزار تین کا آغاز انتہائی مایوس کن تھا جب وہ عالمی کپ میں انگلینڈ اور بھارت کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد ان مقابلوں کے ابتدائی راونڈ سے ہی باہر ہو گئی تھی۔ لیکن سال کا اختتام پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف ولنگٹن ٹیسٹ میں سات وکٹوں سے کامیابی پر کیا۔ عالمی کپ کے بعد سال گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ٹیم نےعالمی کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیا۔ اس سال پاکستانی ٹیم نے جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کو ہوم ٹیسٹ سیریز میں ہرا کر ثابت کر دیا کے پاکستان کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ورلڈ کپ کے انعقاد کے بعد سے ہونے والے سات ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستانی ٹیم نے پانچ میچ جیتے ہیں جبکہ دو برابر رہے ہیں۔ گو کہ ایک روزہ میچوں میں ان کی کارکردگی اتنی بہتر نہیں رہی لیکن پھر بھی انہوں نے تیس میں سے پندرہ میچوں میں کامیابی حاصل کی جب کہ آٹھ میچوں میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان ٹیم میں ورلڈ کپ کے بعد بہت سے تبدیلیاں کی گئیں اور ان کے ساتھ ہی پاکستان کے اسٹار کھلاڑیوں کے کیرئیر کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ ورلڈ کپ کے بعد وقار یونس کو کپتانی سے فارغ کر دیا گیا اور ان کے ساتھ وسیم بھی رٹائیر ہو گئے۔ پاکستان کے اوپنر سعید انور بھی کرکٹ کے میدان کو خیر باد کہ گئے۔ پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے عالمی کپ کے بعد بھی وہی کیا جو وہ بار ہا پہلے بھی کر چکے ہیں اور وہ ہے نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جانا۔ اس سال بھی بہت سے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا اور اس سے ٹیم کودوبارہ اپنے مقام پر لانے میں بہت مدد ملی۔ نئے کھلاڑیوں میں یاسر حمید کا نام سرفہرست ہے جو کہ ایک روزہ میچوں میں اوپن کرتے ہیں لیکن ٹیسٹ میچوں میں انھیں تیسرے نمبر پر بھیجا جاتا ہے اور توفیق عمر سے اوپن کرایا جاتا ہے۔ یاسر حمید بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے عالمی کپ سے پہلے پاکستان کی نمائندگی نہیں کی تھی۔ حمید کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں اب تک اوسط پچاس سے زیادہ ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں دو سنچریاں بھی بنا چکے ہیں۔
بالنگ کے شعبے میں شعیب اختر کی کارکردگی بہت نمایاں رہی ہے اور ان کے ساتھ محمد سمیع اور شبیر احمد کی ٹیم میں موجودگی سے پاکستان کی بالنگ بہت بہتر ہو گئی ہے۔ ان علاوہ دانش کنیریا بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں شامل آٹھ کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے سابق کرکٹر مدثر نذر کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے تربیت حاصل کی ہے۔ مدثر نذر کا کہنا ہے کہ اب پاکستان کو ایک اچھے اور بااعتماد آل راونڈر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق کی بالنگ پہلے جیسی نہیں رہی اور ان کو بیٹنگ میں بھی کئی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تاہم پاکستان کے پاس ایک روزہ میچوں میں شعیب ملک اور اظہر محمود کی شکل میں دو کھلاڑی موجود ہیں جو کہ میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو بھی ایک فوجی سربراہ سے نجات ملی اور کرکٹ بورڈ کی باگ دوڑ ایک تجربہ کار منتظم اور کرکٹ کی سمجھ رکھنے والے شخص کے ہاتھوں میں آ گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||