| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیوزی لینڈ کو وسیم کی ضرورت
پاکستان کے ہاتھوں ہوم سیریز ہارنے کے بعد نیوزی لینڈ کو پاکستان کے ریٹائرڈ بولر وسیم اکرم سے مدد لینے کا خیال آیا ہے۔ اس سیریز میں شعیب اختر کی بولنگ نے ان کے لیے خاصی مشکلات پیدا کی ہیں اور نیوزی لینڈ کے کپتان اسٹیفن فلیمنگ کا خیال ہے کہ ان کی ٹیم ریورس سونگ کے ماہر وسیم اکرم سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ فلیمنگ کا کہتے ہیں ’اگر کسی سے کچھ سیکھنا ہی ہے تو سب سے اچھے کے پاس کیوں نہ جائیں اور اگر وہ آمادہ ہو جائے تو کیا بات ہے۔‘ فلیمنگ نے اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا ’بلاشبہہ اگر دنیا بھر میں بہترین مہارت رکھنے والا یہ کھلاڑی دستیاب ہو تو اس سے سیکھنے کا موقع ملنا ایک بہر بڑی بات ہو گی۔‘ نیوزی لینڈ اگر چاہے تو اس وقت اور بھی ایسے کھلاڑی دستیاب ہیں جو ریورس سونگ کی مہارت رکھتے ہیں۔ مثلاً شین بونڈ، سابق ٹیسٹ کھلاڑی ڈینی موریسن اور جیوف ایلوٹ۔
اس سے پہلے اس وقت پاکستان میں اس حوالے سے شدید ہلچل مچی تھی جب یہ خبر اڑی تھی کہ بھارت آسٹریلیا کے دورے سے پہلے اپنے بولروں کو وسیم سے تربیت دلوائے گا۔ اس خبر کی بنیاد تو کچھ نہیں نکلی تاہم وسیم نے اس بات کا اقرار ضرور کیا کہ دوسرے ملکوں کے بولروں کو ان کا تربیت دینا خارج از امکان نہیں۔ فلیمنگ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو ریورس سونگ کھیلنے کی زیادہ مشق نہیں تھی۔ خاص طور پر ہم نے ایک سو پچاس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی گیند کا سامنا نہیں کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||