| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکواش: جونئیر کھلاڑیوں کی آزمائش
پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کی آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے۔ برٹش اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ کے لئے پاکستان اسکواش فیڈریشن نے انیس کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جو انڈر 19 ، انڈر 17 ، انڈر 15 اور انڈر 13 مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ یہ مقابلے 2 سے 6 جنوری تک شیفیلڈ انگلینڈ میں ہورہے ہیں۔ برٹش اوپن جونیئر کو انٹرنیشنل جونیئر مقابلوں میں وہی اہمیت حاصل ہے جو سینیئر مقابلوں میں روایتی برٹش اوپن کو حاصل رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی گزشتہ دوسال سے برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی جانب سے رحمت خان کی خدمات ہیں جنہوں نے قلیل وقت میں نوجوان کھلاڑیوں کو اس قابل کردیا کہ انہوں نے نہ صرف بھارت کے شہر چنئی میں عالمی جونیئر اسکواش کا ٹیم ٹائٹل جیتا بلکہ برٹش اوپن جونیئر میں تین کیٹگریز میں ٹائٹل اپنے نام کئے۔ بھارت میں پاکستان کی کامیابی اس اعتبار سے اہمیت کی حامل تھی کہ 1982 کے بعد یعنی بیس سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان نے عالمی اعزاز جیتا۔ برٹش اوپن جونیئر میں بھی پاکستان کے سفیرخان کی انڈر 19 مقابلوں میں کامیابی اس لحاظ سے تاریخی تھی کہ دو عشروں کے بعد پاکستان کے کسی کھلاڑی نے برٹش اوپن جونیئر کا اعزاز حاصل کیا۔ برٹش اوپن جونیئر کے مقابلوں میں اس مرتبہ بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو مصری چیلنج کاسامنا ہوگا جو اس وقت جونیئر اسکواش میں ایک بڑی قوت کے طور پر موجود ہیں تاہم دو ہزار تین کی برٹش اوپن جونیئر میں رحمت خان کے تربیت یافتہ کھلاڑی ان کی برتری کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ انڈر 19 مقابلوں میں پاکستان کے سفیرخان فائنل میں ہالینڈ کے ڈائلن بینیٹ کو ہراکر چیمپئن بنے تھے۔ انڈر 17 کے فائنل کے دونوں کھلاڑی پاکستانی تھے جس میں یاسربٹ نے فرحان محبوب کو شکست دی تھی۔ انڈر 13 کے فائنل میں پاکستان کے عامراطلس نے مصر کے احمد ہواس کو شکست دی تھی۔ صرف انڈر 15 ایونٹ پاکستانی کھلاڑیوں کی دسترس سے باہر رہا۔ اس مرتبہ پاکستان کے خالد اطلس کو انڈر 19 مقابلوں میں ٹاپ سیڈ رکھاگیا ہے۔ انگلینڈ کے لارنس ڈیلاساکس سیڈنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یاسربٹ اس مرتبہ انڈر 19 مقابلوں میں تیسرے سیڈ کی حیثیت سے کھیلیں گے۔ اس ایونٹ میں شریک دیگر پاکستانی کھلاڑی عاقب حنیف اور باسط اشفاق ہیں۔ انڈر 17 مقابلوں میں فرحان محبوب ٹاپ سیڈ ہیں جبکہ انڈر 15 میں پاکستان کے عامراطلس کو مصر کے محمد ردا کے بعد سیڈنگ میں دوسرا نمبر دیا گیا ہے اسی طرح انڈر 13 میں پاکستان کے وقار محبوب اور دانش اطلس سیڈنگ میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستان کے لئے کامیابی آسان نہیں ہوگی خصوصا خالد اطلس کو ٹاپ سیڈ کی حیثیت سے غیرمعمولی کارکردگی دکھانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوں گی کیونکہ حالیہ جونیئر مقابلوں میں وہ کمزور حریفوں سے غیرمتوقع شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن نے برٹش اوپن جونیئر کے ڈراز پر عدم اطمینان ظاہر کردیا ہے اور اسے منتظمین کی جانبداری قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک ہی ہاف میں رکھ کر انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی سے اس بات کا اندازہ ہوسکے گا کہ ان میں عالمی جونیئر اعزاز کا دفاع کرنے کا کتنا دم خم ہے۔ آئندہ ورلڈ جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ اگست میں پاکستان میں ہونے والی ہے۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن نے جونیئر کوچ رحمت خان سے معاہدے کی مدت بھی اگست تک مقرر کررکھی ہے اس طرح رحمت خان کے مستقبل کا انحصار بھی ان دو جونیئر مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہوگا۔ تاحال وہ اپنی ٹریننگ سے نوجوان کھلاڑیوں سے مطلوبہ نتائج لینے میں کامیاب رہے ہیں لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سینیئر کھلاڑی ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور پروفیشنل سرکٹ میں ان کی کارکردگی محض خانہ پری کے انداز میں دکھائی دیتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||