BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 00:49 GMT 05:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاکی کلب اسٹیڈیم کی رونقیں بحال

ہاکی سٹیڈیم

کراچی کا مشہور ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم چند دنوں پہلے تک مخدوش اسٹینڈز اور اجڑی ہوئی آسٹروٹرف کو دیکھ کر کسی مفتوحہ علاقے کا منظر پیش کرتا تھا لیکن اب تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ نئی آسٹروٹرف شائقین کا استقبال کررہی ہے۔

اس نئے روپ میں پاکستان ہاکی کے اس اہم مرکز نے پاکستان سینئرز، جونیئرز اور ملائشیا کی ٹیموں کے درمیان سہ فریقی سیریز کی میزبانی کی ہے۔

انیس سو اٹھاسی میں پاک بھارت ہاکی ٹیسٹ کے بعد پانچ سال میں کسی غیرملکی ٹیم کا ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں یہ پہلا میچ بھی تھا جس پر کراچی کے شائقین اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار دونوں بے حد خوش ہیں کہ ایک طویل عرصے بعد کراچی میں بین الاقوامی ہاکی کی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں۔

ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم پر جتنے عرصے ویرانی کا راج رہا، ہاکی مقابلوں اور قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کے لئے پاکستان اسٹیل ہاکی گراؤنڈ اور ہاسٹل استعمال ہوتارہا لیکن شہر سے بہت دور ہونے کے سبب وہاں تک عام آدمی کی رسائی آسان نہ تھی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر جنرل محمد عزیز خان کے مطابق ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کی روایتی رونق بحال ہونا وہ پہلا قدم ہے جس کا راستہ اس شہر میں ایک بار پھر انٹرنیشنل مقابلوں کے بھرپور انداز میں انعقاد کی جانب جاتا ہے ۔

جنرل محمد عزیز خان ، جو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، کہتے ہیں کہ یہ اسٹیڈیم پاکستان ہاکی کا ایک مرکز ہے جسے کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی آسٹروٹرف کی تنصیب اور تزئین و آرائش کے بعد جلد ہی یہاں بین الاقوامی مقابلے منعقد ہونے لگیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا مقابلہ اپریل میں ہونے والا جونیئرایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ ہے۔

اس سوال پر کہ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آئندہ سال کی چیمپئنز ٹرافی کراچی میں منعقد کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا جاتا کہ کراچی کسی بھی بڑے انٹرنیشنل ایونٹ کے لئے محفوظ مقام ہے، جنرل عزیز خان کا کہنا تھا کہ آئندہ سال کی چیمپئنزٹرافی کی میزبانی پہلے ہی لاہور کو دی جاچکی ہے لیکن پاکستان میں بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد کے کئی اور مواقع آنے والے ہیں اور ان میں یقینًا کراچی کو اولیت دی جائے گی۔

یہ ہاکی اسٹیڈیم ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہاکی کی پہچان رہا ہے۔ سن انیس سو اسی میں دوسری چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر یہاں پاکستان کی پہلی آسٹروٹرف بچھائی گئی جس کا افتتاح پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے صدر ائرمارشل نورخان نے خود کرنے کے بجائے اسپورٹس مین اسپرٹ دکھاتے ہوئے سابق اولمپئن منورالزماں مرحوم سے کرایا جس کے بعد اس میدان پر چیمپئنز ٹرافی سمیت ان گنت انٹرنیشنل مقابلے منعقد ہوتے رہے ہیں۔

تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق ارباب اختیار کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں اس اسٹیڈیم کی حالت دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ مختلف اسٹینڈز پر ’جان کو خطرہ ہے‘ کے نشان لگادیئے گئے ، نشستیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں اور آسٹروٹرف اپنی عمر پوری ہونے کے بعد کھیلنے کے قابل نہ رہا۔

ایک عرصے تک یہ اسٹیڈیم ہاکی کھلاڑیوں کے بجائے قانون نافذ کرنے والوں کا مسکن رہا۔ پاکستان میں آخری چیمپئنز ٹرافی کراچی کے بجائے انیس سو اٹھانوے میں لاہور میں منعقد ہوئی لیکن اب پاکستان ہاکی فیڈریشن کراچی کو انٹرنیشنل ہاکی میں اہم مقام دینے میں غیرمعمولی سنجیدہ نظر آرہی ہے۔

اس سٹیڈیم کی پرانی رونقیں تو لوٹ آئی ہیں لیکن اب بھی کئی معاملات پر متنازعہ ہیں۔ سٹیڈیم کی کار پارکنگ ختم کرکے وہاں رہائشی مکان کھڑے کردیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب شادی لان کی شکل میں شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ بہت سے حلقے جاننا چاہتے ہیں کہ حقائق کیا ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی اعلی عسکری قیادت کیا اس بارے میں حقائق بتاناضروری سمجھے گی؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد