| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلے باپ، اب بیٹے
بیس سال قبل بھارتی کرکٹ ٹیم اپنی بہترین فارم میں تھی اور اسی دوران ٹیم نے ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔ کارکردگی کے اتار چڑھاؤ کے طویل دورانیہ کے بعد اب ایک مرتبہ پھر بھارت میں نئی نسل کے کرکٹ کھلاڑی امید کی کرن کی صورت میں ابھر رہے ہیں۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی کرکٹ کوچ اور بیس برس قبل ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل مدن لال کے بیٹے کنال لال قومی سطح پر پہلی مرتبہ ریلویز کے خلاف رنجیت ٹرافی کے مقابلے میں شامل ہوئے اور میچ میں انہوں نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں دو وکٹیں لیں۔ کرکٹ کے ایک اور کوچ روجر بنِی بھی، جو اپنے زمانے میں بہترین کھلاڑی رہے ہیں، اب کوچنگ سے وابستہ ہیں۔ ان کے بیٹے سٹورٹ اپنے والد کا عکس ہیں۔ سٹورٹ ایک اچھے بالر، میڈیم آرڈر بیٹسمین اور ایک چست فیلڈر ہیں۔
سٹورٹ کرناٹکا کی ٹیم میں شامل ہیں اور وہ انڈر نائنٹین ورلڈ کپ کی ٹیم میں بھارت کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ اسی طرح سن انیس سو تراسی کے بہترین وکٹ کیپر سید کرمانی کے بیٹے صادق کرمانی بھی اب میدان میں ہیں۔ سید کرمانی ملک کی کرکٹ سیلکشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ نئی نسل کے ان کھلاڑیوں میں بہترین بلے باز سنیل گواسکر کے بیٹے روہن بھی شامل ہیں۔ وہ بنگال سٹیٹ سائیڈ کے کپتان ہیں۔ پونا میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے ایک سو تہتر رن بنا کر ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا۔ اسی طرح دیگر نئے کھلاڑی بھی کرکٹ کے میدان میں اچھے مستقبل کی امید سے اترے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||