| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا: گنگولی کی سینچری
کپتان گنگولی نے آسٹریلیا کے شہر برسبین میں سینچری بناکر بھارت کی پوزیشن مستحکم کرلی۔ اتوار کے روز جب کھیل ختم ہوا تو بھارت کا اسکور تین سو باسٹھ رنز تھا اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ بھارت کی طرف سے لکشمن نے پچھہتر جبکہ وکٹ کیپر پٹیل نے سینتیس رنز بنا کر کپتان گنگولی کا اچھا ساتھ دیا۔ بھارت اور میزبان آسٹریلیا کے مابین میچ کے تیسرے دن کا کھیل چھ اعشاریہ ایک اوورز کے بعد بارش کے باعث موخر کردیا گیا تھا۔ اس وقت بھارت کے سہواگ اور چوپڑا بیٹنگ کررہے ہیں اور اب تک بغیر کسی نقصان کے گیارہ رنز بنائے تھے۔ ٹیٹٹ کے دوسرے اور پہلے دن کا کھیل اختتامی اوقات میں بارش اور کم روشنی کے باعث ایک گھنٹا پہلے ہی ختم کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ امپائر اس بات پر متفق تھے کہ آخری تین دن کے کھیل کا وقت بڑھا دیں گے لیکن اختتام ہفتہ کے بارے میں محکمۂ موسمیات کی پیشنگوئی ہے کہ موسم مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس سے قبل دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے نو کھلاڑیوں کے نقصان پر تین سو تئیس رنز بنائے تھے۔ موسم کی خرابی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ہی ختم کردیا گیا۔ بھارت کے ظہیر خان نے تباہ کن بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پچانوے رن دے کر آسٹریلیا کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ دوسرے دن کا کھیل بارش کے باعث دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تھا اور ابتدا ہی میں بھارت نے میزبان ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی تھی۔ کھانے کے وقفے تک آسٹریلیا کا سکور پانچ وکٹوں کے نقصان پر دو سو پچھتر تھا۔ میچ کے پہلے روز آسٹریلیا نے مستحکم آغاز کے بعد دو کھلاڑیوں کے نقصان پر دو سو باسٹھ رنز بنائے تھے۔
جسٹن لینگر نے آسٹریلیا کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنی سولہویں سنچری بنائی تھی جس سے ان کی ٹیم کی اننگز کافی مضبوط دکھائی دے رہی تھی۔ خراب روشنی کے باعث پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر لینگر ایک سو پندرہ رنز پر کھیل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ڈیمئین مارٹن کھیل رہے ہیں جنہوں نے چھتیس رنز بنائے ہیں۔ کپتان رِکی پونٹنگ نے چوّن جبکہ میتھیو ہیڈن نے سینتیس رنز بنائے۔ میچ کا آغاز بارش کے باعث نسبتاً تاخیر سے ہوا۔ آسٹریلیا نے اس میچ میں ایک نئے کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ نیتھن بیکر بریڈ ولیمز کی جگہ کھیل رہے ہیں اور وہ بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرتے ہیں۔ بھارت کے کپتان سارو گانگولی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو کھیلنے کی دعوت دی لیکن ان کا یہ فیصلہ اچھا ثابت نہ ہوا۔ ایسا ہی ایک فیصلہ بارہ ماہ قبل انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین نے بھی کیا تھا اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پہلے روز لینگر اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ اپنی اننگز کے شروع میں ہی وہ اس وقت آؤٹ ہونے سے بچ گئے تھے جب انہوں نے نہرا کی ایک گیند کو پُل کیا اور گیند آکاش چوپڑا کے ہاتھ میں آگئی لیکن ایمپائر سٹیو بکنر نے اسے نو بال قرار دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||