| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ظہیر خان کی تباہ کن بالنگ
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں بھارت کے خلاف آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر نو کھلاڑیوں کے نقصان پر تین سو تئیس رنز بنائے ہیں۔ موسم کی خرابی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ہی ختم کردیا گیا۔ بھارت کے ظہیر خان نے تباہ کن بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پچانوے رن دے کر آسٹریلیا کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دوسرے دن کا کھیل بارش کے باعث دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تھا اور ابتدا ہی میں بھارت نے میزبان ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی تھی۔ کھانے کے وقفے تک آسٹریلیا کا سکور پانچ وکٹوں کے نقصان پر دو سو پچھتر تھا۔ میچ کے پہلے روز آسٹریلیا نے مستحکم آغاز کے بعد دو کھلاڑیوں کے نقصان پر دو سو باسٹھ رنز بنائے تھے۔
جسٹن لینگر نے آسٹریلیا کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنی سولہویں سنچری بنائی تھی جس سے ان کی ٹیم کی اننگز کافی مضبوط دکھائی دے رہی تھی۔ خراب روشنی کے باعث پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر لینگر ایک سو پندرہ رنز پر کھیل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ڈیمئین مارٹن کھیل رہے ہیں جنہوں نے چھتیس رنز بنائے ہیں۔ کپتان رِکی پونٹنگ نے چوّن جبکہ میتھیو ہیڈن نے سینتیس رنز بنائے۔ میچ کا آغاز بارش کے باعث نسبتاً تاخیر سے ہوا۔ آسٹریلیا نے اس میچ میں ایک نئے کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ نیتھن بیکر بریڈ ولیمز کی جگہ کھیل رہے ہیں اور وہ بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرتے ہیں۔ بھارت کے کپتان سارو گانگولی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو کھیلنے کی دعوت دی لیکن ان کا یہ فیصلہ اچھا ثابت نہ ہوا۔ ایسا ہی ایک فیصلہ بارہ ماہ قبل انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین نے بھی کیا تھا اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پہلے روز لینگر اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ اپنی اننگز کے شروع میں ہی وہ اس وقت آؤٹ ہونے سے بچ گئے تھے جب انہوں نے نہرا کی ایک گیند کو پُل کیا اور گیند آکاش چوپڑا کے ہاتھ میں آگئی لیکن ایمپائر سٹیو بکنر نے اسے نو بال قرار دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||