BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2003, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استعفہ غیرمتوقع نہیں

توقیرضیاء
توقیرضیاء: ایک کے بعد دوسرے تنازعہ کےزد میں آتے رہے

پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کے استعفے کی خبر اگرچہ حیرانگی سے سنی گئی لیکن یہ غیرمتوقع نہیں تھی۔

ان کے استعفے کو چند روز قبل اٹھنے والے نشریاتی حقوق کے تنازعہ کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے جس کی توقیرضیاء نے تردید بھی کی ہے لیکن کافی دنوں سے ان کے کرکٹ بورڈ سے جانے کی باتیں ہورہی تھیں جس کی وجوہات ظاہر ہے نجی نوعیت کی نہیں ہیں جیسا کہ توقیرضیاء نے بتائی ہیں۔ وہ مختلف معاملات میں ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کی زبردست تنقید کی زد میں آتے جارہے تھے جن میں ان کے بیٹے کی پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت، پاکستان کرکٹ ٹیم کا اندرونی خلفشار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اپنے انتظامی معاملات قابل ذکر ہیں۔

غیرجانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پوزیشن کے حامل جرنیل کے لئے پاکستان کرکٹ کے معاملات پر مکمل کنٹرول رکھنا آسان ثابت نہ ہوا اور وہ ضرورت سے زیادہ اپنے مشیروں پر انحصار کی پالیسی کا شکار ہوگئے۔ خود لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیاء نے ایک سے زائد بار یہ اعتراف کیا کہ کارگل اور کشمیر جیسے حساس معاملات سے زیادہ مشکل انہیں پاکستان کرکٹ کے معاملات چلانے میں پیش آئی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا چار سالہ دور خاصا ہنگامہ خیز رہا جس میں انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

غیرمعمولی بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر پاکستان غیرملکی ٹیموں کے لئے ’نو گو ایریا‘ بن گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز سے ہوم سیریز ملک سے باہر کھیلنی پڑیں، بھارت کا پاکستان سے کھیلنے سے انکار بھی ان کے صبر کا امتحان لیتا رہا تاہم ان کی جانب سے سخت لیکن اصولی موقف اختیار کرنے کے نتیجے میں غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے کے لئے تیار ہوئیں اور پاکستان اور بھارت کرکٹ روابط پر جمی برف بھی پگھلنے لگی ہے۔

کرکٹ کے حلقوں میں توقیرضیاء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سب سے طاقتور سربراہ کے طور پر دیکھا گیا جس کی وجہ ظاہر ہے کہ فوجی وردی تھی۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے قضیئے میچ فِکسنگ کو نمٹاتے ہوئے جسٹس ملک محمد قیوم کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا اور اس سے نمٹنے کے بعد انہوں نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے ’ویژن 2005 ‘ پروگرام کا اعلان کیا جس کے لئے انہوں نے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی رہنمائی لی۔ لیکن اس ضمن میں ان پر یہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام کو محض ایک شخصیت یعنی عمران خان کی خوشی پر قربان کررہے ہیں۔

توقیرضیاء پاکستان کرکٹ کے نظام میں جو بھی تبدیلیاں لائے وہ مستقل مزاج پالیسی نہ ہونے کے سبب کارآمد ثابت نہ ہوسکیں اور پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کو کوئی مستقل نظام نہ مل سکا۔ ملک بھر کی کرکٹ ایسوسی ایشنز بھی ان کے فیصلوں پر ناراض رہیں اور پاکستان کی کرکٹ کی سب سے بڑی تنظیم کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن پاکستان کرکٹ بورڈ کو عدالت میں لے گئی۔

لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کو جن دوسرے محاذوں پر ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ان میں ایک خواتین کرکٹ کا تنازعہ بھی تھا۔ کافی عرصے سے پاکستان کی خواتین کرکٹ مختلف گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ توقیرضیاء نے اپنے مشیروں کے کہنے پر خواتین کرکٹ کے معاملات میں غیرضروری طور پر مداخلت کی جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹ کی عالمی تنظیم سے الحاق یافتہ پاکستان ویمنز کرکٹ کنٹرول ایسوسی ایشن کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ٹیم ہالینڈ میں ہونے والی آئی ڈبلیو سی سی ٹرافی میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کے لئے پورے ملک میں ٹرائلز اور کیمپ کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کردیئے گئے۔

لیکن خواتین کرکٹ کی عالمی تنظیم نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر یہ بات واضح کردی کہ ان کی ٹیم قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اسے انٹرنیشنل ویمنز کرکٹ کونسل کی رکنیت حاصل نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ویمنز کرکٹ کنٹرول کی ٹیم ہی ہالینڈ گئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو خفت سے دوچار ہونا پڑا۔

لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیاء کے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سلیکشن کے معاملات میں غیرمعمولی غیرمستقل مزاجی کے نتیجے میں نہ صرف ٹیم کی کارکردگی کو استحکام نہ مل سکا بلکہ یہ صورتحال وقتاً فوقتاً تنازعےکو بھی جنم دیتی رہی۔

گزشتہ سال شارجہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے سب سے کم اسکور 53 رنز پر ڈھیر ہوئی اور ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکی جس پر توقیرضیاء زبردست تنقید کی زد میں آئے۔ اس وقت انہوں نے تمام سینئر کرکٹرز کی ٹیم سے چھٹی کرکے نوجوان کرکٹرز کے ذریعے ٹیم کی تشکیل نو کا نعرہ بلند کیا لیکن سینئر کرکٹرز ایک ایک کر کے ٹیم میں واپس بلالئے گئے، ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر راشد لطیف کے سپرد کردی گئی تھی جوریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرچکے تھے لیکن ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے کے باوجود پاکستان کرکٹ کی روایتی سیاست نے ان پر بھی ٹیم کے دروازے بند کردیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ توقیرضیا نے چیف سلیکٹر عامر سہیل کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دے دیے جس کے نتیجے میں ٹیم کے سلیکشن میں بگاڑ پیدا ہوا اور عامر سہیل، راشد لطیف اور جاوید میانداد اور پھر عامرسہیل، جاوید میانداد اور انضمام الحق کے اختلافات کھل کر سامنے آئے جو پاکستان کرکٹ کی جگ ہنسائی کا سبب بنے۔

گزشتہ سال شارجہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی تاریخ کے سب سے کم اسکور 59 اور 53 رنز پر ڈھیر ہوئی تو توقیرضیاء نے استعفہ دے دیا تھا جو منظور نہ ہوا۔ لیکن اس بار ان کا استعفہ منظور ہو گیا ہے اور ان کو جانا پڑا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد