| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبدالرزاق مین آف دی میچ
لاہور میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو تین وکٹوں سے شکست دی ہے۔ نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں دو سو اکیانوے سکور کیا جو کہ ایک روزہ میچوں میں کافی اچھا سکور ہے۔ تاہم پاکستان نے یہ سکور اڑتھالیس اوورز میں پورا کر لیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم ہفتہ کو جب میدان میں اتری تو اس میں چھ کھلاڑی ایسے تھے جو اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیل رہے تھے ان میں کریگ کمنگ، رچرڈ جونز، ہمیش مرشل، میتھیو واکر، کیری وامسلے اور مائیکل میسن شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کی اننگز کا آغاز ان کے دو نئے کھلاڑیوں کریگ کمنگ اور رچرڈز جونز نے کیا اور اعتماد سے کھیلتے ہوئے پہلی وکٹ کی شراکت میں انچاس رنز بنائے اور اس موقع پر کریگ کمنگ شبیر احمد کی گیند پر فرحت کے ہاتھوں پچیس رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کے کچھ دیر بعد رچرڈ جونز کو عبد الرزاق نے سولہ کے سکور پر بولڈ کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم میں پہلی بار جگہ پانےوالے ہمیش مارشل اور تجربہ کار بیٹس مین میتھیو سنکلئر کی سمجھدار بیٹنگ نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو سہارا دیا۔ تیسری وکٹ میں ان کی ننانوے رنز کی شراکت کو پینتیسویں اوور میں ایک وائڈ گيند پر شیعب ملک نے توڑا۔ انہوں نےمیتھیو سنکلئیرکو سٹمپ آؤٹ کیا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر ایک سو چھپن تھا۔میتھیو نے پچپن رنز بنائے تھے۔ چالیسویں اوور میں نیوزی لینڈ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر ایک سو اٹھتر رنز تھا۔ ہمیش مارشل کو شبیر احمد نے پچپن رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس موقع پر یوں لگا کہ پاکستان کی میچ میں پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ مگر اس کے بعد کرس کینز نے صحیح معنوں میں کیپٹن اننگز کھیل کر نہ صرف اپنی ٹیم کے سکور کو دو سو اکیانوے تک پہنچایا بلکہ سٹیڈیم میں موجود پانچ ہزار تماشائیوں کو بھی محظوظ کیا۔ کرس کینز نے وکٹ کے چاروں طرف جاندار شارٹس کھیلے اور چھ چھکے اور پانچ چوکے لگائے۔
نیوزی لینڈ کی پانچویں وکٹ جیکب اورم کی گری جنہیں پینتیس کے سکور پر مصباح الحق نے رزاق کی گیند پر آؤٹ کیا۔ آخری اوور میں کرس کینز نے تیئیس رنز بنائے اور یوں نیوزی لینڈ نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر دو سواکیانوے سکور کیا۔ پاکستانی بالرز میں آج سب سے اچھی بالنگ شبیر احمد نے کروائی۔ انہوں نے دس اوورز میں تیس رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز خاصا مایوس کن تھا پہلے اوور کی تیسری گیند پر پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین عمران فرحت بغیر کوئی رن بنائے مائیکل میسن کی گیند پر وکٹ کیپر میک کولم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔اس وقت پاکستان کا سکور صرف دو تھا۔ اس کے بعد اوپنر یاسر حمید اور ون ڈاؤن یوسف یوحنا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکور کو آہستگي سے آگے بڑھایااور دوسری وکٹ کی شراکت میں نوے رنز بنائے۔اس موقع پر یوسف یوحنا بیالیس کے سکور پر رن آؤٹ ہو گئے اور صرف دو رنز کے اضافے کے بعد یاسر حمید باون کے سکور پر اوورم کی گیند پر سنکلئیر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور یوں نیوزی لینڈ نے ایک بار پھر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس کے بعد انضمام اور معین خان نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک سو ایک گیندوں پر ننانوے سکور کیا۔ انضمام انچاس رنز بنا کر سینتیسویں اوور میں کینز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ صرف دو رنز کے اضافے کے بعد معین خان تینتالیس رنز بنا کر وٹوری کی گیند پر میک کولم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس وقت میچ پاکستان کے ہاتھوں سے نکلتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کے بعد شعیب ملک اور مصباح الحق نے ستائیس رنز کا اضافہ کیا اور مصباح ایک چوکا اور ایک چھکا مار کر اکیس کے سکور پر اوورم کی گیند کا نشانہ بنے۔ اس کے بعد شعیب بھی صرف نو سکور پر وامسلے کی گیند پر واکر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور پاکستان کی جیت کو مشکل بنا دیا۔ یہاں پر عبدالرزاق اور سمیع نے شاندار انداز میں انتہائی جارحانہ بیٹنگ شروع کی اور ستائیس گیندوں پر پینسٹھ رنز بنا کر ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ رزاق اور سمیع نے دو دو چھکوں کی مدد سے بالترتیب سینتالیس اور سترہ سکور کیا۔ رزاق مین آف دی میچ قرار پائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||