BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 November, 2003, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شارجہ کپ اور منتظمین کی مشکلات

میانداد
جاوید میانداد ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جنہوں نے شارجہ مقابلوں میں ہیجان انگیز کھیل پیش کیا

کیا شارجہ کپ آئندہ سال منعقد ہوسکے گا ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب فی الحال اس کے منتظمین کے پاس بھی نہیں ہے۔ صحرا میں گزشتہ 23 برس سے کرکٹ میلہ سجانے والی آرگنائزیشن کرکٹ بینیفٹ فنڈز سیریز ( سی بی ایف ایس ) نے اعتراف کیا ہے کہ آئندہ سال اپریل یا پھر فروری میں اسے روایتی شارجہ کپ کے انعقاد کے سلسلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

شارجہ کپ معمول کے پروگرام کے تحت اپریل میں منعقد ہونا تھا جس میں شرکت کے لئے پاکستان اور جنوبی افریقہ کی جانب سے تصدیق کردی گئی تھی۔ تیسری ٹیم کے طور پر منتظمین آسٹریلیا یا سری لنکا میں سے کسی ایک ٹیم کو شارجہ لانے کی کوشش میں مصروف تھے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط کی بحالی کے ضمن میں اچانک خوشگوار تبدیلی نے سی بی ایف ایس کے لئے مشکلات پیدا کردیں۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے اپریل میں شارجہ کپ میں حصہ لینا ممکن نہ تھا۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ نے سی بی ایف ایس سے استفسار کیا کہ وہ اسے اپریل کے ٹورنامنٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرے۔ تاہم یہ سی بی ایف ایس کے لئے ممکن نہ تھا کیونکہ وہ پاکستان کے بغیر ٹورنامنٹ منعقد کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ چنانچہ سی بی ایف ایس نے شارجہ کپ اپریل کے بجائے فروری میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پاکستان ٹیم کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری ٹیم کے طور پر سری لنکا نے بھی فروری میں ٹورنامنٹ ہونے کی صورت میں اپنی شرکت کی تصدیق کردی لیکن شارجہ کپ کے منتظمین تیسری ٹیم کی تلاش میں ہیں کیونکہ جنوبی افریقی ٹیم اپنی مصروفیات کے سبب فروری میں شارجہ جانے کے لئے تیار نہیں۔

پاکستان اور بھارت میں کرکٹ تعلقات کی بحالی نے شارجہ کپ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں

دراصل آئی سی سی کے دس سالہ پروگرام میں ٹیموں کی مصروفیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس سے ہٹ کر ان کے لئے کسی دوسرے ایونٹ کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہی کچھ شارجہ کپ کے منتظمین کے ساتھ ہورہا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کرنے والا موجودہ اور سابق کرکٹرز کی غیر معمولی مالی اعانت کرنے والا شارجہ اسوقت ٹیموں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انہوں نے فروری میں شارجہ کپ کے انعقاد کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن وہ ابھی بھی اپریل میں ٹورنامنٹ کے انعقاد کے امکانات دیکھ رہے ہیں جس کی ایک صورت یہی ہوسکتی ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان مختصر ہوجائے۔

لیکن ان کی دوسری مشکل ایشیا کپ نے پیدا کردی ہے جسے منتظمین اپریل میں منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ فروری کے ٹورنامنٹ کے لئے سی بی ایف ایس نے پہلے ویسٹ انڈیز سے رابطہ کیا لیکن اس کے کرکٹرز کی ڈومیسٹک سیزن میں لازمی شرکت کے سبب یہ کوشش رائیگاں گئی۔

اب اس کی نظر زمبابوے پر ہے جو فروری میں آَسٹریلیا کی سہ فریقی ون ڈے سیریز کھیلنے کے بعد شارجہ کپ میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سی بی ایف ایس، نیوزی لینڈ کو بھی شارجہ لانا چاہتی ہے۔

اعلٰی حکام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کوئی بڑی ٹیم شارجہ نہ آسکی تو پھر بنگلہ دیش اور کینیا جیسی ٹیمیں رہ جاتی ہیں لیکن یہ گھاٹے کا سودا ہوگا۔

سی بی ایف ایس اس سال نومبر دسمبر میں اپنے ٹورنامنٹ سے ٹیموں کی غیرمعمولی مصروفیات کے سبب پہلے ہی دست کش ہوچکی ہے۔

اس سال اگست میں مراکش کے شہر طنجہ میں بھی سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آئی سی سی کے دس سالہ پروگرام میں ٹیموں کی غیرمعمولی مصروفیات اور شارجہ کے پڑوس ابوظہبی میں بین الاقوامی کرکٹ کی آمد کے بعد شارجہ کرکٹ کے منتظمین کو زبردست چیلنج کا سامنا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کس طرح نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد