| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی اوپن سکواش کی تیاریاں آج کل لاہور میں عالمی اوپن سکواش چمپئن شپ کے انعقاد کے لیے زوروشور سے تیاریاں جاری ہیں۔ یہ چمپئن شپ 12 دسمبر سے 21 دسمبر تک مغعقد کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے لاہور کے پرانے ائیر پورٹ کے بین الاقوامی روانگی کے لیے استمعال ہونے والے لاؤنج کو سکواش سٹیڈیم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ ہال جو کہ پہلے 100×100فٹ کا تھا اسے بڑھا کر100×137بنایا گیا۔ ہال کی چھت جس کی اونچائی جو کہ پہلے 12 فٹ تھی اسے بڑھا کر 24 فٹ بنایا گیا تاکہ اس میں 22 فٹ اونچائی والے فور وال گلاس کورٹ کو لگایا جا سکے۔اس وقت اس گلاس کورٹ کی دیواروں کو جرمنی سے آئے ماہرین اس ہال میں نصب کر چـکے ہیں۔ اس کورٹ کے گرد پندرہ سو تماشائيوں کے بیٹھنے کے لیے نشستوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔اور یہ کام بیس نومبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کی آرگنائیزنگ کمیٹی کے چیئرمین اور پنجاب سکواش ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جرنل ضرار عظیم کے بقول یہ دنیا میں سب سے بڑا سکواش ارینا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر طرح سے بین ا لاقوامی معیار کا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ ضرار عظیم کا کہنا تھا کہ ان غیر ملکی کھلاڑیوں کو لاہور کی سیر بھی کرائی جائے گی۔ آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین بتاتے ہیں کہ اکثر لیڈنگ چینلز پی ٹی وی، ٹین سپورٹس، اے آر وائی اور جیو اس عالمی اوپن سکواش کو براہ راست دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اتنے بڑے موقع پر باہری دنیا کی مزید توجہ حاصل کرنے کے لیے سکواش کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کی ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جسے لاہور گیٹ2003 کا نام دیا جائے گا۔ ایکسپورٹ پرموشن بیورو کے نائب صدر طارق پوری کے بقول اس نمائش سے حاصل ہونے والی آمدنی کو سکواش کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ دنیا کے پندرہ ممالک کے اسی سے زائد ٹاپ سکواش کے کھلاڑیوں نے پاکستان آنے کے لیے پنجاب سکواش ایسوسی ایشن کو مطلع کر دیا ہے۔ اس عالمی اوپن سکواش چمپئن شپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ جو کہ بارہ اور تیرہ دسمبر کو کھیلا جائے گا اس میں بتیس کھلاڑی شرکت کریں گے جن میں آٹھ عالمی سکواش فیڈریشن کے رکن ممالک سے مدعو کئے جائیں گے۔ مین راؤنڈ چونسٹھ کھلاڑیوں پر مشتمل ہو گا جن میں اڑتالیس عالمی درحہ بندی کے مطابق ہوں گے جبکہ سولہ کوالیفائنگ راؤنڈ سے آئیں گے۔ عالمی سکواش چمپئن شپ کی انعامی رقم ایک لاکھ پچھتر ہزار امریکی ڈالر ہے۔اس کثیر انعامی رقم کا سب سے بڑا حصہ جو کہ بائیس ہزار تین سو بیس امریکی ڈالر ہے اس کے چمپئن کو ملے گا جبکہ بقیہ رقم درجہ بدرجہ چونسٹھویں کھلاڑی تک پہنچے گی۔ اب تک ہونے والے عالمی سکواش چمپئن شپ میں جہانگیر خان چھ باراور جان شیر خان آٹھ بار چمپئنز بن چکے ہیں۔ پاکستان میں اس سے پہلے کراچی میں ہونے والے دونوں عالمی سکواش اوپن میں بھی جان شیر ہی جیتے تھے۔ مگر اس اتنی بڑی انعامی رقم والے ٹورنامنٹ میں موجودہ پاکستانی کھلاڑی کتنا حصہ وصول کر پاتے ہیں اس کی بابت چند روز قبل پاکستان سکواش فیڈریشن کے صدر ائیرچیف کلیم سعادت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کی خواہش تو یہ ہے کہ وہ ساری رقم جیت لیں مگر حقیقت میں ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ان کی برٹش اوپن میں حالیہ کارکردگي پر نظر ڈالی جائے تو بہت زیادہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر اب گیند کھلاڑیوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ کتنی محنت اور لگن سے پریکٹس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیئر کھلاڑی اتنی محنت نہیں کرتے جتنی انہیں کرنی چاہیے۔ البتہ لیفٹیننٹ جرنل ضرار عظیم کا کہنا تھا کہ چونکہ انعامی رقم چونسٹھ کھلاڑیوں تک کو ملے گی اس لیے یقینناً پاکستانی کھلاڑیوں کو کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور ملے گا۔ اس کے علاوہ جب وہ دنیا کے بڑے بڑے سکواش کے کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں کھیلتے دکھیں گے تو ان میں بھی جوش و جذبہ پیدا ہو گا اور وہ بھی محنت کریں گے بحر حال پاکستانی کھلاڑی اس عالمی سکواش ٹورنامنٹ میں کتنی سیڑھیاں چڑھ پاتے ہیں یہ تو دسمبر ہی میں معلوم ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||