| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی پاک ٹیم کا جنم
فیصل آباد ٹیسٹ ڈرا ہوگیا اس کے ساتھ ہی پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک صفر سے جیت لی۔ پاکستان نے لاہور میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ فیصل آباد ٹیسٹ بھی پاکستان ٹیم جیت سکتی تھی لیکن کپتان انضمام الحق نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم نے جیتنے کے دو اہم مواقع ضائع کردیئے۔ پہلا موقع اس وقت ہاتھ آیا تھا جب پاکستان کا اسکور صرف 2 وکٹوں پر237 رنز تھا لیکن وہ 348 رنز ہی بناسکی۔ دوسرا موقع میچ کے آخری دن ملا لیکن صرف 22 رنز کے اضافے پر 3 وکٹیں گرنے سے 302 رنز کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگیا۔ انضمام الحق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ میچ کے آخری دن ڈرا کے لئے میدان میں اترے تھے۔ انضمام الحق کو اس بات پر اطمینان ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم اب سخت جاں حریف کے طور پر کسی بھی بڑی ٹیم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سیریز کی جیت کا کریڈٹ اپنے نوجوان اوپنرز عمران فرحت اور توفیق عمر کو دیا جنہوں نے لگاتار تین اننگز میں سنچری پارٹنرشپ قائم کی اور پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی نئی تاریخ رقم کی۔
توفیق عمر کے لئے یہ سیریز انتہائی کامیاب رہی جس میں انہوں نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں اسکور کیں، انضمام الحق نے یہ اعتراف کیا کہ لیگ اسپنر مشتاق احمد کو جن توقعات کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا وہ ان پر پورا اترنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ البتہ دانش کنیریا نے بڑی عمدہ بولنگ کی، کافی عرصے کے بعد انہوں نے پاکستان میں کسی لیگ اسپنر کو اتنی اچھی بولنگ کرتے دیکھا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جاوید میانداد بھی ایک روشن مستقبل کے ضمن میں پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں نے ایک بڑی ٹیم کے خلاف جو شاندار پرفارمنس دکھائی ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ بھارت کے خلاف ہونے والی سیریز کے لئے تیار ہیں جو آئندہ سال پاکستان کے دورے پر آنے والی ہے۔ میانداد کا کہنا ہے کہ ’یوسف یوحنا جیسے تجربہ کار بیٹسمین اور شعیب اختر اور محمد سمیع جیسے برق رفتار بولرز کے واپس آنے سے ٹیم کی قوت میں مزید اضافہ ہوجائےگا۔ یہ تینوں کھلاڑی فٹ نہ ہونے کی وجہ سے فیصل آباد ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔‘ جنوبی افریقی ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے پاکستان آئی تھی۔ ون ڈے سیریز دو صفر کے خسارے میں جانے کے باوجود تین دو سے جیت کر اس نے ٹیسٹ سیریز میں بھی خطرے کا سگنل دے دیا تھا۔ تاہم پاکستان نے شعیب اختر کے طوفانی سپیل اور پھر دانش کنیریا کی عمدہ بولنگ کے نتیجے میں لاہور ٹیسٹ جیت کر اپنی برتری کی مہر تصدیق ثبت کردی۔ فیصل آباد میں بھی پاکستان ٹیم حاوی رہی لیکن آخری دن اس نے اہم موقع پر تین وکٹیں گنواکر خود کو جیت سے دور کردیا۔ جنوبی افریقی ٹیم کے اس دورے میں جہاں کھلاڑیوں نے عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا وہاں میدان میں تلخ واقعات بھی رونما ہوئے، جن میں اینڈریو ہال اور گریم اسمتھ کی یوسف یوحنا سے مبینہ بدتمیزی اور پھر شعیب اختر کا پال ایڈمز کے ساتھ نامناسب الفاظ استعمال کرنا شامل ہیں۔ ان دونوں واقعات پر آئی سی سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہال، اسمتھ اور شعیب اختر پر پابندی عائد کردی۔ جنوبی افریقی ٹیم کے اس دورے کی ایک اور خاص بات اسے فراہم کی جانے والی سکیورٹی تھی جس کی شرط پر ہی اس نے پاکستان کے دورے پر رضامندی ظاہر کی تھی کیونکہ ابتدائی طور پر اس نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا۔ بعدازاں اس نے کراچی اور پشاور میں نہ کھیلنے کی شرط پاکستان کرکٹ بورڈ سے منواکر دورے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس پورے دورے میں جنوبی افریقی ٹیم کو غیرمعمولی سکیورٹی فراہم کی گئی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دورے سے یہ ثابت ہوگیا کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کے لئے غیر محفوظ جگہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||