| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خانیوال ایکسپریس
چار سال قبل تیز رفتار بولر شبیر احمد کا بین الاقوامی کیریئر بولنگ ایکشن پر کئے گئے اعتراض کے سبب خطرے سے دوچار ہوگیا تھا اور عام تاثر یہی تھا کہ ان کے لئے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنا بہت مشکل ہوگا۔ لیکن اسوقت چھ فٹ تانچ انچ طویل قامت شبیر احمد کو پاکستان کی فاسٹ بولنگ میں اہم مقام حاصل ہوچکا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کو شعیب اختر اور محمد سمیع کی خدمات حاصل نہیں ہیں لیکن شبیر احمد نے ان کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا اور چار قیمتی وکٹیں حاصل کرکے اپنی موجودگی کا بھرپور انداز میں احساس دلایا۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وہ سترہ وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے۔ ستائیس سالہ شبیر احمد کا تعلق وسطی پنجاب کے شہر خانیوال سے ہے اسی لئے وہ کرکٹ کے حلقوں میں خانیوال ایکسپریس کے نام سے بھی پکارے جاتے ہیں۔ شبیراحمد کو پہلی بار انیس سو نناوے میں ٹورنٹو میں ہونے والی ڈی ایم سی ٹرافی کے لئے پاکستان ٹیم میں منتخب ہوئے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے میچ میں انہوں نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن آئی سی سی میچ ریفری جنوبی افریقہ کے پیٹر وان ڈرمرو کے خیال میں ان کا بولنگ ایکشن قوانین کے مطابق درست نہیں تھا۔ پاکستان ٹیم شارجہ آئی تو شبیر احمد اس میں شامل تھے اس ٹورنامنٹ میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچ کھیلنے کے بعد وہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آگئے ۔ شارجہ میں بھی میچ ریفری پیٹر وان ڈر مرو تھے شبیر احمد آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی ٹیم میں شامل کرلئے گئے تھے لیکن آئی سی سی کی ہدایت پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو انہیں ٹیم سے دستبردار کرنا پڑا اور ان کا معاملہ مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق ماہرین کے سپرد کردیا گیا۔ بولنگ ایکشن میں معمولی ردوبدل اور بہتری کے بعد شبیر احمد کی واپسی سن دو ہزار میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ایشیا کپ میں ہوئی لیکن ایک میچ کے بعد وہ ٹیم سے ایسے باہر ہوئے کہ اس سال ان کی واپسی ممکن ہوسکی ۔ ورلڈ کپ کے بعد جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرکے نوجوان کھلاڑیوں پر انحصار کی پالیسی اختیار کی تو شبیر احمد بھی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ دمبولا سری لنکا میں کھیلے گئے سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ میں شریک پاکستان ٹیم میں شامل تھے لیکن ان کی بہترین پرفارمنس بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں سامنے آئی۔ شعیب اختر اور محمد سمیع کی غیرموجودگی میں شبیر احمد اور عمر گل نے ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ شبیراحمد تین ٹیسٹ میچوں میں سترہ وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے عمر گل نے پندرہ وکٹیں حاصل کیں۔ فیصل آباد ٹیسٹ میں شعیب اختر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی کی زد میں آئے اور محمد سمیع بیمار ہوکر کھیلنے کے قابل نہ رہے تو شبیر احمد دوبارہ یاد آگئے۔ شبیر احمد نے اپنے کپتان کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کرڈالیں، جن میں کپتان گریم اسمتھ کی وکٹ بھی شامل تھی۔ شبیر احمد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کی عمدہ پرفارمنس نے ان کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ چار سال قبل جب ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض ہوا تھا تو وہ قطعا پریشان نہیں تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ معاملہ بخوبی نمٹالے گا اور اب انہیں پاکستان ٹیم کا حصہ بن کر بہت خوشی ہورہی ہے۔ ابھی ابتدا ہے وہ ٹیم کے مستقل کھلاڑی کی حیثیت سے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ شبیر احمد پاکستان کرکٹ کی فاسٹ بولنگ میں ایک خِوشگوار اضافہ ہے یہ امر خوش آئند ہے کہ شبیر احمد اور عمر گل جیسے باصلاحیت فاسٹ بولرز پاکستان کو دستیاب ہیں جو پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی دلیل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||