| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسکواش: عالمی چیمپئن شپ
انیسویں ورلڈ ٹیم سکواش چیمپئن شپ مقابلے انیس سے پچیس اکتوبر تک آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہورہے ہیں۔ چیمپئن شپ میں شریک ٹیموں کو آٹھ گروپوں میں رکھا گیا ہے۔ ہر گروپ سے دو ٹیمیں پری کواٹر فائنل کے لئے کوالیفائی کریں گی۔ پاکستان کو چیمپئن شپ کے گروپ ایچ میں ملائشیا اور اٹلی کے ساتھ رکھاگیا ہے۔ پاکستان جو ورلڈ ٹائٹل چھ مرتبہ جیت چکا ہے، جہانگیرخان اور جان شیرخان کے بعد عالمی اعزاز جیتنے کی دوڑ سے باہر ہوچکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے کھلاڑی پاکستان اسکواش کی دیرینہ روایات پر چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس عالمی مقابلے کے لئے پاکستان نے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب قومی ٹرائلز میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا ہے۔ پاکستان ٹیم منصور زمان ، فرخ زمان ، ماجد خان اور خیال محمد پر مشتمل ہے۔ ان میں سے صرف منصور زمان ہی ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لے رہے ہیں اور اس وقت ان کی عالمی رینکنگ پندرہ ہے لیکن ان کی کارکردگی میں بھی مستقل مزاجی کا فقدان ہے اور وہ ابھی تک کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ پاکستان کے کوچ رحمت خان کا کہنا ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں سے ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ میں کسی غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی تاہم دنیا کے صف اول کے کھلاڑیوں کے خلاف کھیل کر ان نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ حاصل ہوگا۔ تاہم رحمت خان ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان نوجوان کھلاڑیوں سے چونکا دینے والی کارکردگی کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں انہوں نے بھارت میں ہونے والی ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیت کر سب کو حیران کردیا تھا اور اس وقت بھی ان کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ رحمت خان کو پاکستان سکواش فیڈریشن نے پاکستان اسکواش کا مستقبل سنوارنے کے لئے جونیئر کوچ مقرر کیا تھا۔ رحمت خان، جنہیں دنیا عظیم جہانگیر خان کے کوچ کی حیثیت سے جانتی ہے، دو سال ہی میں مثبت نتائج دینے میں کامیاب رہے اور پاکستان نے اکیس سال کے طویل انتظار کے بعد ورلڈ جونیئر ٹائٹل جیتا اور بائیس سال کے صبرآزما انتظار کے بعد برٹش اوپن جونیئر کا پہلا اعزاز سفیر اللہ خان کی کامیابی کی صورت میں حاصل کیا۔ جونیئرز کی شاندار کامیابیوں کے بعد پاکستان اسکواش فیڈریشن نے رحمت خان کو سینئر ٹیم کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے لیکن رحمت خان کا کہنا ہے کہ تیاری کے لئے ایک ماہ کی ٹریننگ ناکافی ہے۔ رحمت خان کے ساتھ یہ مسئلہ بھی رہا ہے کہ پاکستان اسکواش میں خاندانی رقابتوں اور نفرتوں کے سبب چند کھلاڑی قومی کیمپ میں ان کے ساتھ ٹریننگ کرنے کے لئے تیار نہ تھے جس کا نقصان انہی کھلاڑیوں اور پاکستان اسکواش کو ہوا ہے۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ جونیئر کھلاڑیوں کی ٹریننگ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے لیکن سینیئر کھلا ڑیوں کی ٹریننگ میں ان کے ساتھ کافی مسائل درپیش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر کھلاڑی کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ رحمت خان کا خیال ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے لیکن اس کے لئے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے کھیل سے دیانت داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سات مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا ریکارڈ بنانے والے آسٹریلیا کو تیس ممالک کے اس عالمی مقابلے میں ٹاپ سیڈ رکھاگیا ہے سیڈنگ میں انگلینڈ دوسرے اور فرانس تیسرے نمبر پر ہے جبکہ مصر کا نمبر چوتھا ہے۔ ورلڈ چیمپئن اور برٹش اوپن چیمپئن ڈیوڈ پامر کے علاوہ خطرناک نوجوان کھلاڑی انتھونی رکٹس کی موجودگی میں آسٹریلوی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ ٹائٹل جیتنے کے لئے فیورٹ ہے۔ دوسال قبل اس نے میلبرن میں ہونے والی چیمپئن شپ کے فائنل میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل مصری ٹیم کو شکست دے کر دس سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی بار ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی آسٹریلیا کو 1995 اور 1997 کی چیمپئن ٹیم انگلینڈ اور 1999 کی فاتح مصری ٹیم سے سخت مقابلہ متوقع ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||