| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آہستہ اوور کی سزا
بولرز کی سست روی پاکستان کرکٹ ٹیم کو مہنگی پڑ گئی اور جنوبی افریقہ نے ڈک ورتھ لوئس فارمولے کے تحت فیصل آباد میں کھیلا گیا تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 13 رنز سے جیت کرپاکستان کو سیریز جیتنے کے لئے انتظار پر مجبور کردیا ہے۔ پاکستان نے لاہور میں کھیلے گئے دونوں میچ جیت کر دو صفر کی برتری حاصل کرلی تھی اور فیصل آباد میں اس کے پاس سیریز جیتنے کا اچھا موقع تھا لیکن بولرز نے اپنی محنت کو سلو اوور ریٹ کی بھینٹ چڑھا دیا جب میچ کامقررہ وقت ختم ہوا تو پاکستانی بولرز 45 اوورز ہی کرا پائے تھے جن میں جنوبی افریقہ کا اسکور 6 وکٹوں پر 221 رنز تھا۔ اس مرحلے پر امپائرز ڈیرل ہیئر اور ندیم غوری نے بیٹسمینوں پولاک اور ہال کو کھیل ختم کرنے کی پیشکش کی جو انہوں نے فورا قبول کرلی۔ ڈک ورتھ قوانین کے تحت جنوبی افریقی ٹیم کو اس مرحلے پر کم روشنی کی وجہ سے کھیل ختم ہونے کی صورت میں جیت کے لئے 208 رنز اسکور کرلینے تھے جبکہ اس کا اسکور 221 رنز تھا اس طرح اس نے یہ میچ 13 رنز سے جیت لیا۔
اسے پاکستان ٹیم کی ناقص حکمت عملی ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ اس موسم میں پنجاب میں شام کے سائے جلدی گہرے ہوجاتے ہیں بولرز کو اوور ریٹ تیز رکھنے کے لئے کوئی ہدایت نہیں کی گئی اور بولرز اس سکون کے ساتھ گیندیں کراتے رہے کہ شام ہوتے ہی فلڈ لائٹس روشن ہوجانی تھیں۔ ایکسٹرا رنز کی بھرمار پہلے ہی پاکستانی بولرز کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم نے اپنے ساتھ ہاتھ نہیں ہونے دیا اس نے صورتحال کو بھانپ لیا تھا اور اسی کے مطابق اس نے بیٹنگ کی۔ اگر سلو اوور ریٹ کا جن پاکستان ٹیم کو بوتل میں بند نہ کرتا تو شعیب اختر اپنی طوفانی گیندوں سے پاکستان کی جیت یقینی نہ سہی ممکن ضرور بنا چکے تھے۔ آخری 9 اوورز میں جنوبی افریقہ کو جیت کے لئے 42 رنز درکار تھے اور پریشر مہمان بیٹسمینوں پر تھا۔ شعیب نے گبز، کیلس اور باؤچر کو جس طرح آؤٹ کیا وہ منظر قابل دید بھی تھا اور قابل داد بھی۔ تیسرے ون ڈے میں پاکستان کی بیٹنگ پچھلے دو میچوں کے مقابلے میں اچھی نہ تھی۔ انضمام الحق کی کمی شدت سے محسوس کی گئی محمد سمیع بھی رہ رہ کر یاد آئے ان کی جگہ ٹیم میں شامل کئے جانے والے آف سپنر ثقلین مشتاق غیرمؤثر ثابت ہوئے۔ ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد جن کرکٹرز پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عدم اعتماد ظاہر کیا تھا ان میں ثقلین مشتاق بھی شامل تھے لیکن کرکٹ بورڈ ان مسترد کرکٹرز کو ایک ایک کرکے ٹیم میں واپس لے آیا ہے جو اس کے ٹیم کی تشکیل نو کے بلند بانگ دعوے کے یکسر منافی معلوم ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||