| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بندوق، بیٹ اور بال
جب برطانوی فوج کے سارجنٹ کیون بریڈل نے مارلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کو ایک خط لکھا تھا تو انہیں امید نہیں تھی کہ انہیں اس کا کبھی جواب بھی آئے گا۔ رائل لاجیسٹک کور، ستائیس رجمنٹ، کے بریڈل نے ایم سی سی کو لکھا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کلب جنوبی عراق میں تعینات برطانوی فوجیوں کو کرکٹ کھیلنے کا سامان مہیا کر سکے۔ رجمنٹ میں ایک رائے شماری سے پتہ چلا تھا کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد چاہتی ہے کہ عراق میں فرائض سے فارغ ہونے والے فوجیوں کے لئے کرکٹ کی تربیت کا مرکز ہونا چاہیئے۔ ایم سی سی نے فوراً ڈنلپ سلازینجر کمپنی کی مدد سے دو لائینوں والا نیٹ اور دو مصنوعی پچ مہیا کر دیں۔ بلے، گیند، دستانے، وکٹیں اور کرکٹ کے لباس سمیت اور ایک گیند پھینکنے والی مشین بھی بصرہ میں تعینات برطانوی فوجیوں کو بھیجی جا رہی ہیں۔
سارجنٹ بریڈل نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ فوجیوں کو کھیل کا اعلیٰ سامان ملے گا۔ ’ہمیں اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ میں بہت حیران اور خوش ہوں۔‘ انگلینڈ کے سابق کپتان اور ایم سی سی کمیٹی کے رکن مائیک گیٹنگ نے جمعہ کو ستائیس رجمنٹ کے چھ ارکان کو یہ سب سامان مہیا کیا۔ گیٹنگ نے کہا کہ جیسے ہی ایم سی سی کو کرکٹ کے سامان کی درخواست موصول ہوئی اس نے فوراً ہی اس پر عمل درآمد کرنے کی ٹھان لی۔ رجمنٹ کی کپتان جولی مارگن نے کہا کہ کام کے اوقات کے بعد فرصت گزاری کے لئے بہت کم مواقع ہیں۔ ’(ہمارے لئے) سب سے آسان چیز تھی کہ فٹ بال یا والی بال کھیلیں۔ لیکن لوگ ورائٹی چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مقامی لوگ بھی اس سامان کو استعمال کر سکیں۔ ’اس طرح کچھ لوگوں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ بھی وہ کھیل کھیل سکیں جو اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کھیلا۔‘ ’ہو سکتا ہے کچھ لوگوں نے ٹی وی پر پہلے کرکٹ کھیلی ہو لیکن دوسروں کو اس کے متعلق پتہ بھی نہیں ہو گا۔‘ مارگن نے کہا کہ عراق میں فوجیوں کے لئے کرکٹ کھیلنے کی فضا سازگار ہو رہی ہے اور موسم بھی اب کرکٹ کے لئے بہتر ہو گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |