| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنید ضیاء کا شارٹ کٹ؟ تحریر: عبدالرشید شکور، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان جنید ضیا گزشتہ کچھ عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اب پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں بطور میڈیم فاسٹ بالر ان کی شمولیت کرکٹ کے حلقوں میں حیرانگی کی نظر سے دیکھی گئ ہے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی اسں بارے میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس دوران وہ جونیئر ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں ان کے ایک اور بھائی طلال ضیاء بھی جونیئر سطح پر پاکستان کے لۓ کھیل چکے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنید ضیاء کی ٹیم میں شمولیت پر اعتراض کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے بیٹے ہیں؟اور کیا کرکٹ بورڈ کے کسی اعلی افسر کا بیٹا پاکستان کرکٹ میں حصہ نہیں لے سکتا؟ اگر یہ مان بھی لیا جاۓ کہ کرکٹ بورڈ کے کسی اعلیٰ اہلکار کے بیٹے کا کھیلنا کوئی جرم نہیں اور اگر اس میں ٹیلنٹ ہے تو اسے کھیلنے سے کیوں روکا جاۓ تب بھی کارکردگی اور میرٹ کا پہلو بہرحال اپنی جگہ موجود رہے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے بنیاد بناکر جنید ضیاء کے سلیکشن کو مبصرین اور ماہرین نظرانداز کرنے کے لۓ تیار نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے جنید ضیاء کو ان بولرز پر ترجیح دی ہے جو ان سے زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ایسا صرف اس لۓ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے بیٹے ہیں۔ یہ اعتراض اس لۓ بھی بے جا نہیں ہے کہ جنید ضیاء نے گزشتہ فرسٹ کلاس سیزن میں 6 میچ کھیلے جن میں وہ محض 16 وکٹیں حاصل کرپاۓ اس کے برعکس جعفر نذیر نے 9 میچوں میں 44 وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی دکھائی فہد مسعود نے 7 میچوں میں32 نجف شاہ نے 6 میچوں میں 22 وکٹیں اور عبدالرؤف نے 4 میچوں میں17 حاصل کیں جو ظاہر ہے جنید کی کارکردگی کے مقابلے میں بہتر ہے۔ تاہم یہ تمام متاثرکن اعدادوشمار سلیکٹرز کوقائل نہ کرسکے جو یہ دعوی کرتے نہیں تھکتے کہ ان کے پیش نظر میرٹ ہی واحد پیمانہ ہے۔ اگر محدود اوورز کی کرکٹ کا جائزہ لیا جاۓ تو اس میں بھی جنیدضیاء کی کارکردگی ایسی ہرگز نہیں تھی کہ انہیں دوسرے بالرز پر فوقیت دی جاتی۔ اب تک محدود اوورز کے 23 میچز میں ان کی وکٹوں کی تعداد صرف 17 رہی ہے جس کی مایوس کن اوسط 48 رنز فی وکٹ بنتی ہے۔ جنید ضیاء کا پاکستان ٹیم میں شامل ہونا اس لۓ غیرمتوقع نہیں کہ ون ڈے سیریز شروع ہونے سے قبل ہی چیف سلیکٹر عامرسہیل نے یہ نوید سنادی تھی کہ انہیں ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا جاۓ گا۔ انہوں نے اس کی وجہ پاکستان کرکٹ اکیڈمی ٹیم کے دورۂ جنوبی افریقہ میں ان کی کارکردگی بتائی تھی۔ اگر فرسٹ کلاس کرکٹ نہ سہی جنوبی افریقہ کے اس دورے ہی کی کارکردگی کی بنیاد پر جنید کے سلیکشن کا جائزہ لیا جاۓ تب بھی ان کی ٹیم میں شمولیت پر سوالیہ نشان بہرحال موجود رہے گا کیونکہ اس دورے کے 2 ون ڈے میچوں میں وہ صرف 2 وکٹیں ہی حاصل کرپائے۔ اس کے برعکس ان 2 میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کرنے والے فہد مسعود کو یکسر نظرانداز کردیاگیا۔ اس دورے کے 2 چار روزہ میچوں میں جنید ضیاء نے 7 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عبدالرؤف کی وکٹوں کی تعداد 8 رہی۔ اس دورے کے 2 ون ڈے میچوں میں جنید ضیاء نے صرف 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ان 2 میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کرنے والے فہد مسعود نظرانداز کردۓ گۓ۔ جنید کے لۓ کارکردگی کے ساتھ بولنگ ایکشن بھی مسئلہ رہا ہے۔ گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں ہونے والے جونیئر ورلڈ کپ کے دوران سری لنکن امپائر اشوکا ڈی سلوا نے ان کے بولنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیتے ہوۓ اس کی رپورٹ کی تھی۔ جنید ضیاء کے لۓ یہ بات کسی چیلنج سے کم نہ ہوگی کہ وہ یہ ثابت کردکھائیں کہ پاکستان ٹیم میں ان کی شمولیت شارٹ کٹ کا نتیجہ نہیں اور وہ اپنے والد کے حوالے سے نہیں بلکہ اپنے حوالے سے پہچانے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |