محمد علی کے جنازے میں ’دنیا بھر کو شرکت کی دعوت‘

محمد علی کی موت پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد علی کی موت پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے

سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن محمد علی کے خاندان کے ذرائع نے کہا ہے کہ جمعے کو ان کا بہت بڑا جنازہ منعقد کیا جائے گا تاکہ ’دنیا بھر کے لوگوں کو انھیں خداحافظ کہنے کا موقع مل سکے۔‘

یاد رہے کہ کھیلوں کی دنیا کی شہرۂ آفاق شخصیت محمد علی ہفتے کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کے خاندان کے ذرائع نے کہا ہے کہ ان کا انتقال نامعلوم قدرتی وجوہات سے ہونے والے سیپٹک شاک سے ہوا، جب کہ ان کا جنازہ جمعے کے روز امریکی ریاست کینٹکی میں واقع ان کے آبائی قصبے لوئی ول میں منعقد کیا جائے گا۔

سیپٹک شاک میں مریض کا بلڈ پریشر کسی انفیکشن کے باعث خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔

محمد علی کے خاندان کے ترجمان باب گنیل نے کہا کہ ’وہ ساری دنیا کے شہری تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔‘

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک تقریب میں محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ساری زندگی مذہبی اور سیاسی اعتقاد کے ساتھ گزاری جس کی وجہ سے انھیں چند کڑے فیصلے بھی کرنے پڑے اور انھیں ان کے نتائج برداشت کرنا پڑے۔

مشہور فٹبالر پیلے نے کہا کہ کھیل کی دنیا کو عظیم نقصان ہوا ہے۔

باکسنگ کے سابق لیجنڈ محمد علی کے انتقال پر انھیں دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور کھیلوں کی دنیا کی اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں امریکی صدر براک اوباما اور عظیم باکسر جارج فورمین شامل ہیں۔

وہ سانس کی تکلیف کے باعث دو دن سے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک ہسپتال میں داخل تھے۔ انھیں پارکنسنز کا مرض بھی لاحق تھا جس کی وجہ سے ان کی سانس کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔

صدر براک اوباما کے بقول ’علی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘

دوسری جانب جارج فورمین کا کہنا تھا کہ ’محمد علی آپ کو مجبور کر دیتے تھے کہ آپ ان سے پیار کرنے لگیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دفتر میں محمد علی کی تصویر لگا رکھی ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر براک اوباما نے اپنے دفتر میں محمد علی کی تصویر لگا رکھی ہے

محمد علی کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، معروف موسیقار سر پال میکانٹی، باکسنگ کی دنیا کے مشہور نام مائیک ٹائسن اور فلوئڈ مےویدر کے علاوہ گالف کے عالمی چیمپئن ٹائیگر وُڈز بھی شامل ہیں۔

شاندار، پُر اثر، معصوم روح

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما ’دعاگو ہیں کہ دنیائے باکسنگ کی عظیم شخصیت کی روح ابدی سکون میں رہے۔‘

’اس کرۂ ارض کے ہر انسان کی طرح میں اور مشیل اس موت پر سوگوار ہیں لیکن ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں محد علی کو جاننے کا موقع دیا چاہے ان کے ساتھ یہ تعلق ایک لمحے کا ہی تھا۔ ہم اسے خدا کی طرف سے اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں کہ اس نے اِس عظیم کھلاڑی کو ہماری زندگیوں، ہمارے وقت میں بھیج کر اس دور کو جلا بخشی۔‘

صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی اس صف میں کھڑے تھے جس میں مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا جیسی سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی علمبرداور بڑی بڑی شخصیات کھڑی تھیں کیونکہ یہ لوگ اس وقت سیا فاموں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے جب ایسا کرنا بہت مشکل تھا، انھوں نے اس وقت آواز بلند کی جب باقی اس کی ہمت نہیں کر پائے۔ ’یہاں تک کہ باکسنگ رِنگ کے باہر کی جنگ کی وجہ سے محمد علی کو اپنے اعزازات اور عوامی پزیرائی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔‘

امریکی صدر کے بقول ویتنام کی جنگ میں جانے سے انکار کی وجہ سے ’دائیں بازو اور بائیں بازو کے حامیوں، دونوں میں کئی لوگ محمد علی کے دشمن ہو گئے، انھیں برا بھلا کہا اور یہاں تک کہ یہ لوگ محمد علی کو جیل بھیجنے پر تیار ہو گئے تھے، لیکن وہ اپنے پاؤں پر کھڑے رہے۔ اور پھر ان لوگوں پر محمد علی کی فتح سے ہمیں اُس امریکی (معاشرے) میں رہنے کا حوصلہ ملا جو آج امریکہ کی شناخت ہے۔‘

’یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ محمد علی میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ باکسنگ رِنگ میں اپنے تمام جادو کے باوجود، وہ اپنے لفظوں کے انتخاب میں احتیاط نہیں کرتے تھے اور ان کی باتوں میں کئی تضادات نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آخر کار یہ ان کی معصوم روح اور شاندار اور پُر اثر شخصیت کمال ہی تھا جس کی بدولت دنیا میں ان کے دوستوں کی تعداد دشمنوں سے کہیں زیادہ ہو گئی۔‘

’شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب کو محمد علی کی شخصیت میں خود اپنے آپ کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘

محض ایک باکسر نہیں

امریکہ کے سابق پروفیشنل باکسر جارج فورمین نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ’محمد علی آپ کو ان سے پیار کرنے پر مجبور کرتے تھے۔‘

جارج فورمین کا مزید کہنا تھا: ’ وہ ایک بہترین شخص تھے، آپ باکسنگ کو بھول جائیں، وہ ٹی وی اور میڈیا پر آنے والے دنیا کی بہترین شخصیات میں سے ایک تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty

واضح رہے کہ محمد علی نے سنہ 1974 میں ہونے والے باکسنگ کے معروف مقابلے ’دی رمبل ان دی جنگل‘ میں جارج فورمین کو شکست دی تھی۔

امریکی باکسر جارج فورمین نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا: ’میں محمد علی کو خوبصورت کہوں گا، وہ ہمیشہ سے ہی خاص رہے۔‘

جارج فورمین اور محمد علی کے درمیان 42 برس پہلے ہونے والے اس مقابلے کو کھیل کے کسی بھی مقابلے میں سب سے زیادہ مشہور لمحات میں سے ایک کے طور پر کہا جاتا ہے۔

اس مقابلے کے بارے میں فورمین کا کہنا ہے کہ ’میں صرف اتنا جانتا تھا کہ میرا مقابلہ ایک بڑے باکسر کے علاوہ ایک بڑی شخصیت سے تھا۔‘

محمد علی کے باکسنگ مقابلوں کے پروموٹر ڈان کنگ نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کے لیے ایک دکھ کا دن ہے، میں نے ان سے پیار کرتا تھا، وہ میرے دوست تھے۔ علی کبھی نہیں مرےگا۔‘

ڈان کنگ کے مطابق ’مارٹن لوتھر کنگ کی طرح محمد علی کی روح زندہ رہے گی۔ وہ دنیا کے لیے کھڑے ہوئے۔‘

سابق عالمی چیمپیئن مینی پیکیاؤ نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ’ ہم ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ محمد علی کی صلاحیتوں سے باکسنگ کو فائدہ پہنچا، لیکن اتنا نہیں جتنا انسانیت کو ان سے فائدہ پہنچا۔‘

سابق عالمی چیمپیئن فلوئڈ مےویدر کے مطابق ’کوئی دوسرا محمد علی نہیں آئے گا۔ دنیا بھر کی سیاہ فام برادری کو ان کی ضرورت تھی۔ وہ ہماری آواز تھے۔‘

سابق عالمی چیمپیئن بیری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’ہر کوئی محمد علی کی وجہ سے باکسنگ کرنا چاہتا تھا۔ وہ ہر لحاظ سے حیران کن تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ بہت خوبصورت، خدا ترس اور کھیلوں کی دنیا کے بہترین کھلاڑی تھے، ہم خوش قسمت ہیں کہ محمد علی نے باکسنگ کو اپنایا۔‘

سابق عالمی چیمپیئن ٹونی بیلیو نے محمد علی کو ’اصلی ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’میرے خیال سے وہ دنیا کے سب سے بڑے کھلاڑی تھے۔‘

سابق عالمی چیمپیئن جوز کا محمد علی کے بارے میں کہنا تھا ’ اب کوئی دوسرا محمد علی کبھی نہیں آئے گا۔ وہ سپر سٹار تھے۔‘

برطانوی صحافی مائیکل پارکنسن نے چار بار محمد علی کا انٹرویو لیا۔ انھوں نے محمد علی کو باکسنگ کا سب سے بڑا سٹار قرار دیا۔

پارکنسن نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا: ’ وہ راک سٹار اور غیر معمولی شخص تھے، میں نے ان سے بڑا دلکش اور خوبصورت شخص کبھی نہیں دیکھا۔‘

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’محمد علی نہ صرف رنگ میں چیمپیئن تھے، وہ شہری حقوق کے بھی چیمپیئن اور بہت سے لوگوں کے لیے رول ماڈل تھے۔‘

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے محمد علی کو ان الفاظ میں یاد کیا کہ ’جب انھوں نے سنہ 1960 میں اولمپک گولڈ میڈل جیتا تو باکسنگ کے شائقین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ خوبصورتی اور انداز، رفتار اور قوت کا وہ امتزاج دیکھ رہے ہیں جو دوبار دیکھنے کو نہیں ملے گا۔‘