کیا پہلے نہیں جیت سکتے تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی ٹیم بالآخر جیت گئی لیکن یہ جیت پانی سر پر سے گزر جانے کے بعد ملی جو ظاہر ہے شائقین کے زخموں پر مرحم رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔
ایشیا کپ کی دو ناکام ترین ٹیموں کے میچ سے سری لنکا اور پاکستان دونوں کے شائقین کو کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن پاکستانی ٹیم کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ ایک اور شکست کے بعد بپھرے ہوئے شائقین کو قابو کرنا مشکل ہوجائے گا۔
پاکستانی ٹیم تین تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔
بڑے ارمانوں کے ساتھ ٹیم میں شامل کیے گئے خرم منظور کو کچھ بھی نہ کرنے کے بعد بالآخر باہر بٹھایا گیا۔
لگ رہا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں ہونے والی ردوبدل کے نتیجے میں سکواڈ سے باہر ہونے والے وہ پہلے کھلاڑی ہوں گے۔
سری لنکا کی ٹیم کا حال بھی اس ٹورنامنٹ میں پاکستان سے کم برا نہیں رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے خلاف میچ سے قبل اس نے بھی صرف متحدہ عرب امارات کے خلاف واحد کامیابی حاصل کی تھی۔
گزشتہ ناکامیوں کا غصہ چندی مل اور تلکارتنے دلشن پاکستانی بولرز پر اتارتے ہوئے نظر آئے تو سری لنکا کو ایک بڑے اسکور کی امید ہوچلی تھی لیکن ان دونوں کی110 رنز کی شاندار شراکت کے بعد کوئی بھی بیٹسمین ڈبل فگرز میں بھی نہ آسکا۔
تلکارتنے دلشن کافی دنوں بعد فارم میں آئے اور 75 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ چندی مل نے 58 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں نے ہر بولر کو اعتماد سے کھیلا خاص کر محمد نواز اور وہاب ریاض ان کی زد میں آئے۔
چندی مل کے پندرہویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بولرز نے سری لنکن بیٹنگ کو سر اٹھانے نہیں دیا۔
شیہان جے سوریا کو شعیب ملک نے آؤٹ کیا جبکہ محمد عرفان نے ایک ہی اوور میں کاپوگدیرا اورشاناکا کی وکٹیں حاصل کرکے کپتان شاہد آفریدی کو سکون فراہم کر دیا۔
پاکستانی ٹیم اس سے قبل آٹھ مرتبہ ایک سو پچاس یا زائد کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی لیکن اس بار عمراکمل، سرفراز احمد اور شرجیل خان کی کوششوں کے نتیجے میں نیّا پار لگ گئی۔
محمد حفیظ نے تین چوکے لگاکر امید دلائی کہ وہ بڑی اننگز کھیلنے کے موڈ میں ہیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
سرفراز احمد کے اڑتیس اور شرجیل خان کے اکتیس رنز کے بعد عمراکمل نے بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی اور جب وہ اڑتالیس رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔



