’یہی سیکھا ہے کہ بس ہمت نہیں ہارنی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا ہے کہ جب وہ میدان میں ہوتے ہیں تو ان کی صرف یہی سوچ ہوتی ہے کہ ہمت نہیں ہارنی ہے اور ایشیا کپ میں انھوں نے اسی سوچ کے تحت بولنگ کی ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف صرف 83 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی تاہم بھارتی اننگز میں محمد عامر نے تین وکٹیں حاصل کر کے میچ کو دلچسپ بنا دیا تھا۔
پیر کو دوسرے میچ میں بھی عامر کی کارکردگی انتہائی کفایتی رہی اور انھوں نے اپنے کوٹے کے چار اوورز میں صرف چھ رنز کے عوض دو وکٹیں لیں۔
محمد عامر جو سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے پانچ سال کرکٹ سے دور رہے ہیں خود کو ایک مختلف بولر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو حریف بیٹسمینوں کی وکٹوں کے ساتھ ساتھ شائقین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
محمد عامر نے ڈھاکہ سے دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں انھوں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم 83 رنز پر آؤٹ ہوسکتی ہے تو بھارتی ٹیم کیوں نہیں ہو سکتی اور انھوں نے اپنے چار اوورز اسی سوچ کے ساتھ کیے کہ دو سو فیصد کارکردگی دکھانی ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ وکٹ ایسی تھی کہ اگر شروع میں جلد وکٹیں مل جاتیں تو میچ کا توازن پاکستان کے حق میں ہو سکتا تھا اور کچھ دیر کے لیے ہوا بھی ایسا ہی۔
عامر کا کہنا ہے کہ وکٹ تمام بولرز کے لیے یکساں مددگار تھی لیکن یہ کسی بھی کھلاڑی کی خوداعتمادی اور کنٹرول ہوتا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔
’سب کھلاڑی ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن کھلاڑی سٹار اور لیجنڈ ذہنی طور پر مضبوط ہونے کی وجہ سے بنتے ہیں۔‘
محمد عامر کا کہنا ہے کہ لینتھ اور لائن پر کنٹرول ان کی خداداد صلاحیت ہے۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی پر انھوں نے شائقین کا جو پیار دیکھا اس کی وہ توقع نہیں کر رہے تھے لیکن ان کی واپسی پاکستان کرکٹ بورڈ کی مدد کے بغیر کسی طور بھی ممکن نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی پر ساتھی کھلاڑیوں اور مینجمنٹ نے بھی ان کا حوصلہ بڑھایا جس سے ان پر موجود دباؤ ختم ہوگیا اور اب وہ بہت ریلیکس محسوس کر رہے ہیں۔



